اسلام آباد :مسلم لیگ ن کے راہنما سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھا جائے تاکہ انتخابات وقت پر ہوں اور جمہوریت کا سفر چلتا رہے۔ تمام ادارے اپنا اپنا کام کریں تو معاملات خراب نہیں ہوں گے۔58۔ ٹو جی کے تحت صدر وزیراعظم کو فارغ کرتا تھا اب اسکی نئی شکل آگئی ہے اب ایک فیصلہ وزیراعظم کو فارغ کردیتا ہے۔
آئندہ الیکشن وقت پر ہوں گے سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا خطرہ ہے ایسا ہوا تو ملک اور جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔مسلم لیگ ن کے راہنما سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ پرانا تعلق ہے۔ انہوں نے ابھی خلوص دل سے دوبارہ پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی جو قبول کی ہے۔ مسلم لیگ ن اور نواز شریف پر بڑا مشکل وقت ہے۔
موجودہ وقت کا تقاضا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھا جائے تاکہ انتخابات وقت پر ہوںاور جمہوریت کا سفر چلتا رہے۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنا اپنا کام کریں تو مسئلہ نہیں ہوگا۔ نواز شریف نے عوام میں جو بیانیہ دیا ہے وہ معنی خیز ہے۔ نواز شریف کا بیانیہ عوام پر اثر انداز ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسا تاثر جارہا ہے کہ 58 ٹو بی جس کے تحت صدر وزیراعظم کو فارغ کردیتا تھا اسکی نئی شکل آگئی ہے اب ایسے ہے کہ صرف ایک فیصلے کے ذریعے منتخب وزیراعظم کو نکالا جاسکتا ہے۔
انہوںنے کہا کہ موجودہ دور کا بھٹہ دور سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔آج ملک میں جمہوریت ہے اور سب ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ بھٹو کا دور مارشل لاء کا دور تھا۔ اگر جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے تو وہ صرف سیاسی جماعتیں ہی کرسکتی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی لاہور، پشاور، کراچی اور آزاد کشمیر میں ایک جیسی پذیرائی ہو رہی ہے۔ ووٹ کے تقدس کو پامال نہ کیاجائے تو بہتر ہوگا۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ آرمی چیف سینٹ میں خودآئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں۔ الیکشن میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے سینٹ الیکشن اور عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔ الیکشن میںدودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کے استعمال کا خطرہ ہے اگر ایسا ہوا تو ملک اور جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا سینٹ الیکشن میں پہلے کے استعمال کا خطرہ موجود ہے۔ پیسے کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں