اسلام آباد : قصور میں زینب سمیت کئی کمسن بچیوں سے زیادتی و قتل کے ملزم عمران علی کی مجرمانہ ذہنیت کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا، میڈیا رپورٹ کے مطابق زینب سمیت کئی بچیوں کا قاتل راولپنڈی میں شادی شدہ خاتون کے اغواء اغوائ میں بھی ملوث ہے، متاثرہ خاندان کی جانب سے پولیس رپورٹ اور عمران علی کا اعترافی بیان بھی سامنے آگیا۔
ایس ایس پی آپریشنز کے حکم نامہ اور ملزم عمران علی کا اعترافی بیان و ذاتی مچلکہ کے مطابق قصور میں زینب، ایمان اور کائنات سمیت کئی بچیوں سے زیادتی و قتل کے الزام میں گرفتار عمران علی نے راولپنڈی کی رہائشی شادی شدہ خاتون ارم صغیر عباسی کو بھی زنائ و زیادتی کی نیت سے اغواء کیا تھا۔ دستاویز کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی نے گزشتہ سال 31 اگست کو متعلقہ پولیس افسران کو لکھا تھا کہ نور حسین عباسی کی جانب سے درخواست موصول ہوئی جس کے مطابق ان کی بہو ارم صغیر عباسی کو اسپتال سے عمران علی سمیت نامعلوم خاتون اور نامعلوم مرد نے زنائ و حرام کاری کیلئے اغوائ کر کے لے گئے، ڈی ایس پی / ڈی پی او وارث خان سرکل کی زیر نگرانی ٹیم تشکیل دی جاتی ہے جو فوری طور پر مغویہ کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی کرے اور 7 یوم کے اندر رپورٹ پیش کرے۔
رپورٹر کی جانب سے جاری دوسری دستاویز عمران علی ولد ارشد علی کا ہاتھ سے لکھا گیا ایک اعترافی بیان اور ذاتی مچلکہ ہے جس میں درج ہے کہ میں مسمی عمران علی اعتراف کرتا ہوں کہ مسمات ارم صغیر عباسی کو راولپنڈی کے سید پور روڈ رشید نرسنگ ہوم سے اغوائ کرکے لاہور لے گیامتاثرہ خاندان نے میرے خلاف تھانہ بنی میں مقدمہ درج کرایا تاہم بعد میں لڑکی کے والدین نے مجھے معاف کردیا تھا۔
عمران علی نے تحریری طور پر وعدہ کیا تھا کہ پولیس کے طلب کرنے پر ہر بار حاضر ہوگا اور عدم حاضری پر 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرے گا، ملزم کے دستخط، انگوٹھے کا نشان اور شناخت کارڈ نمبر 7-7459834-35102 بھی موجود ہے۔واضح رہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے جاری شناختی کارڈ اور موجودہ کیس میں ملزم کے ذاتی مچلکے میں درج شناختی کارڈ نمبر ایک ہی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شخص قصور واقعے میں ملوث عمران علی ولد ارشد علی ہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں