کراچی : چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں نقیب اللہ محسود کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پرجسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا راو انوار عدالت میں ہیں اس پر آئی جی سندھ نے بتایا کہ وہ مفرور ہیں۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاون میں نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس لیا تھا اور رائو انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں آج عدالت طلب کیا تھا۔ ہفتہ کو سماعت کے آغاز پر آئی جی سندھ نے پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی تو اس موقع پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا راو انوار عدالت میں ہیں اس پر آئی جی سندھ نے بتایا وہ مفرور ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے رائو انوار کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا انہیں ہر صورت پیش ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ آپ نے رائو انوار کو گرفتار کرنے کی کیا کوشش کی ۔جواب میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ انہیں گرفتار کرنے کی ہرطرح کوشش کی جاچکی ہے، راو انوار اسلام آباد میں تھے جب تک مقدمہ درج نہیں تھا۔
اس سے قبل پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقیب اللہ اور اس کے دودوستوں کو 3جنوری کو سچل تھانے کی پولیس پارٹی نے ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع گل شیر ہوٹل اٹھایا تھا۔تینوں کو اٹھانے والا سچل تھانے کا اے ایس آئی علی اکبر تھا جبکہ اس کی معاونت کیلئے دو پولیس اہلکار بھی ساتھ تھے۔اٹھانے کے بعد نقیب اللہ سمیت تینوں پر تشدد کیا گیا۔
رپورٹ میں مبینہ طور پر بتایا گیا ہے کہ بعد میں رشوت لے کر دو افراد کو چھوڑ دیا گیاجبکہ نقیب کو جعلی مقابلے کے لیے لیجایا گیا تو اس وقت وہاں 10 افراد پہلے سے قید تھے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ جعلی مقابلے کا وقت 3 بج کر 20 منٹ تھا، ایس ایس پی راو انوار اور پولیس پارٹی 3بج کر 21منٹ پر وہاں موجود تھی،اس بات کا پتا موبائل فون لوکیشن کے ذریعے لگایا گیا ہے۔ابتدائی رپورٹ کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد ہوچکا ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں پولیس پارٹی کی تبدیلی، مقدمیاور گرفتاری تجویز کی گئی تھی، دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے ایڈیشنل آئی جی رینک کا افسر نگران مقرر کیا جائے جس پر آفتاب پٹھان کو نگران افسر مقرر کردیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں