دمشق: شام میں امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی کی طرف سے شمالی شام میں کردوں کے خلاف کارروائی میں مزید توسیع کی تو انقرہ کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔کردوں کی نمائندہ فورس کے ایک سینیر عہدیدار یردور خلیل نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی نے شمالی شام میں جاری فوجی کارروائی بند نہ کی اور اس کا دائرہ شام کی سرحد تک پھیلا دیا تو انقرہ کو اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ترک صدر رجب طیب ایردوآن شمالی شام میں کردوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو وسعت دینے کے اپنے بیان پر قائم رہے تو انہیں اس کا جواب دیا جائے گا۔خیال رہے کہ ترک صدر نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک شام سے متصل سرحد پر موجود کرد جنگجوں کا صفایا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں کرد جنگجوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی شمال مغرب سے مشرق میں عراق کی سرحد تک وسیع کی جا سکتی ہے۔
تاہم یہ اقدام امریکا اور ترک فوج کو آمنے سامنے لا سکتا ہے جو شام میں کردوں کی حمایت کر رہی ہے۔ترکی نے گذشتہ ہفتے شامی اپوزیشن کی حمایت کے ساتھ سرحدی شہر عفرین میں کردد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ دونوں طرف سے جاری اس لڑائی میں اب تک دسیوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ ترک صدر نے دھمکی دی ہے کہ عفرین میں آپریشن مکمل کرنے کے بعد ترک فوج منبج میں بھی کردوں کا پیچھا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں