لاہور: پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سائنٹٖیفک پینل کی سفارشات پر پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011کے تحت کیمیکل لگے پروسیسڈ چھالیہ کو مضر صحت قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال پر مکمل پا بندی کا فیصلہ کیا ہے ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کے تحت چھالیہ کا کاروبار کرنے والوں کو 3ماہ کی مہلت دی گئی ہے ۔
حتمی مہلت ختم ہونے کے بعد خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ بھی دیا گیاہے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سائنٹیفک پینل کے ممبران کی طرف سے میٹنگ میں پیش کی گئی سفارشات کے پیش نظرچھالیہ کی فروخت پر مکمل پا بندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا جس کا اطلاق پنجاب بھر میں30اپریل 2018 سے ہوگا۔گزشتہ ماہ دسمبر میں تحقیات مکمل ہونے کے بعد چھالیہ پر پابندی کے حوالے سے سفارشات پینل میں پیش کی گئیں جن کی حتمی منظوری دیتے ہوئے پینل نے چھالیہ کے کاروبار سے منسلک افراد کو تین ماہ کی کاروباری مثقلی کی مدت دی گئی ہے۔
مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد اگر کوئی بھی شخص چھالیہ فروخت کرتے ہوئے پایا گیا تو پنجاب فوڈ اتھارٹی سخت قانونی کاروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے چھالیہ پر پا بندی عائدکر کے حوالے سے عوام سے گزارش کی ہے کہ چھالیہ کا استعمال انسانوں میں منہ ،گلے اورمعدے کے سرطان کے علاوہ معدے کے دیگر امراض کا باعث بن سکتا ہے ۔ان خطرناک بیماریوں کے پیش نظر عوام چھالیہ کا استعمال فوری ترک کر دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں