بچے، ماں باپ کا سرمایۂ حیات ہوتے ہیں۔ والدین ان کے آرام و سکون کے لیے خود کو مشقت میں ڈالتے ہیں، ان کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں۔ اگر انھیں اطلاع ملے کہ بیٹے یا بیٹی کو کچھ ہوگیا ہے تو حواس باختہ ہوجاتے ہیں اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ چشم زدن میں اپنے لخت جگر کے پاس پہنچ جانا چاہتے ہیں۔ اولاد کے لیے ماں باپ کی اسی بے مثل محبت کو امریکا میں مجرمانہ ذہن رکھنے والے افراد نے کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔

فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن ( ایف بی آئی) نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ ورچوئل کڈنیپرز‘ یعنی ’ فرضی اغواکاروں ‘ سے ہوشیار رہیں جو شہریوں کو فون کرکے یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے انھوں نے ان کا بچہ اغوا کرلیا ہے اور اس کی رہائی کے عوض ہزاروں ڈالر طلب کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ دو تین سال سے زور پکڑ گیا ہے اور تواتر کے ساتھ ایسی وارداتیں ہورہی ہیں۔ ایک عورت نے فرضی یا جعلی اغواکاروں کو نوہزار ڈالر ادا کردیے۔

اسے محض ایک فون کال موصول ہوئی تھی۔ بات کرنے والے شخص نے کہا کہ اس کے گروہ نے اس ( عورت) کی بیٹی کو کالج سے واپسی پر اغوا کرلیا ہے، اگر اس نے فوری طور پر مطلوبہ رقم نہیں دی تو اس کی لاڈلی بیٹی کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ عورت حواس باختہ ہوگئی اور اس نے فوری طور پر آن لائن منی ٹرانسفر سروس کے ذریعے انھیں نوہزار ڈالر بھیج دیے۔
اس شخص نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے لڑکی کی ماں کو فون پر مسلسل مصروف رکھا اور دھمکیاں دیتا رہا کہ اگر اس نے فوری طور پر رقم نہیں بھیجی تو اس کی بیٹی کو گولی مار دی جائے گی۔ رقم ٹرانسفر ہوجانے کے بعد فون کال منقطع ہوئی۔ عورت گھر پہنچی تو اس کی بیٹی دروازے پر کھڑی تھی۔ وہ دوڑی ہوئی آئی اور اس سے لپٹ گئی۔ لڑکی حیران تھی کہ ماں کو اچانک کیا ہوگیا ہے۔ ماں کے خیریت دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔ ماں نے پوچھا تمھیں اغواکاروں نے نقصان تو نہیں پہنچایا۔ اس بات پر لڑکی حیران رہ گئی اور بولی کہ مجھے تو کسی نے اغوا نہیں کیا تھا۔ چند ہی لمحوں میں ساری بات کُھل گئی کہ لڑکی کو کسی نے اغوا نہیں کیا تھا۔

فون کرنے والے نے بڑی چالاکی اور مکاری سے اس پر یہ ظاہر کیا تھا جیسے اس کی بیٹی اغوا کرلی گئی ہے۔ اس نے عورت کو مسلسل فون پر مصروف رکھا تاکہ وہ کسی ذریعے سے اس کی تصدیق نہ کرسکے۔ صورت حال واضح ہونے کے بعد اس عورت نے فوراً پولیس کو فون کردیا۔ اس نوع کی متعدد وارداتیں رپورٹ ہونے کے بعد یہ معاملہ ایف بی آئی کے سپرد کردیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ ورچوئل کڈنیپنگ‘ کی وارداتوں کی بنیاد سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا کے صارفین اپنی تمام تفصیلات فیس بُک، انسٹاگرام، ٹویٹر وغیرہ پر اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ چند روز تک کسی کو فالو کرکے اس کے معمولات سے پوری طرح آگاہ ہوجاتے ہیں۔

اب تو حال یہ ہے کہ بچوں، بڑوں اور بوڑھوں سمیت گھر کے تمام افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ چناں چہ ان پر نگاہ رکھنے والے چند روز میں پورے گھر کی روٹین سے آگاہ ہوجاتے ہیں کہ کون کتنے بجے سو کر اٹھتا ہے، کس وقت اسکول، کالج یا دفتر جاتا ہے، کس کی واپسی کتنے بجے ہوتی ہے، اور اسکول، کالج یا دفتر میں کس کی کیا سرگرمیاں ہوتی ہیں، کس کو کیا پسند ہے، شام میں کون کتنے بجا کہاں جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر دستیاب ان تفصیلات کی مدد سے مجرمانہ ذہن رکھنے والے اپنے شکار کا انتخاب کرتے ہیں۔ جزئیات تک سے واقف ہونے کی وجہ سے وہ بھرپور پلاننگ کرتے ہیں اور منٹوں میں حواس باختہ والدین کی جیب سے رقم نکلوالیتے ہیں۔ مطالبہ بھی وہ اتنی رقم کا کرتے ہیں جو ان کا شکار فوری ادا کرسکتا ہو۔

ایف بی آئی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ نامعلوم نمبر سے آنے والی کال کا جواب نہ دیں اور اگر کوئی انھیں بچوں کے اغوا کی دھمکی دے کر تاوان طلب کرے تو فون منقطع کرکے فوری طور پر اس کی اطلاع نائن ون ون پر دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں