خدائے عزوجل کی سب سے قریب ترین ہستیاں انبیاء اور رُسلؑ ہوتے ہیں۔ یہ مہتمم بالشان ہستیاں یوم پیدائش سے لے کر وصال تک اللہ کی ردائے رحمت و عنایت کے ابر رحمت سے مستفیض و مفیض ہوتی ہیں اُن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بہ راہِ راست اللہ رب العزت کی راہ نمائی میں بسر ہوتا ہے۔

صراط ِ مستقیم سے (معاذ اللہ ) بھٹکنا تو کُجا اس قسم کے شائبے تک کا بھی امکان ہو تو فوراً آسمان سے تابش ِ ہدایت اتر آتی ہے، یوں جادۂ حق اُن پر عیاں ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ ان حاملین قربت خدا نے انسانیت کی گلہ بانی کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے اور یہ مقدس فریضہ انجام دیتے ہوئے انبیاء اور رُسلؑ کو ناقابل بیان اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تبھی انبیائے کرامؑ پر عنایات خداوندی کی برسات ہوتی ہے۔

ہر نبی اور رسولؑ کو خالقِ کائنات نے اپنے کسی نہ کسی خاص انعام سے نوازا۔ مگر اپنے محبوب ؐ باعث تخلیق و تزئین کائنات حضور سید المرسلین ﷺ کی ذات والا صفات کو سب سے الگ، سب سے جدا، سب سے اعلیٰ و ارفع مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ ان لامحدود عنایات اور احترام میں ایک نادرالوجود تقدس و تحرم یوں عطا فرمایا کہ قرآن پاک میں ہر پیغمبر کو یا موسیٰ، یا آدم، یا نوح، یا ابراہیم کہہ کر مخاطب کیا مگر حریم نبوتِ محمدی سے خطاب فرمایا تو ایک مرتبہ بھی یامحمد یا یااحمد کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا یہ انتہائے احترام نبوت ِ مصطفیؐ نہیں تو اور کیا ہے۔ جب بھی مخاطب کیا یا ایہاالنبی کہہ کر خطاب فرمایا۔
پیغمبروں کی بزم کے ہیں آپؐ شہ نشیں

جس مرتبے پہ آپؐ، وہاں کوئی بھی نہیں

قرآن میں یوں تو آپ ؐ کی شانِ رفعت و اوج کا جا بہ جا تذکرہ موجود ہے مثلاً وارفعنا لک ذکرک اس میں ’’نا‘‘ کی ضمیر جو کمال لطافت پیدا کر رہی ہے اس کو صرف صاحب دل جوہری ہی سمجھ سکتے ہیں۔ حضور سید المرسلین ﷺ نے جب مسجد نبویؐ کی بوسیدہ چٹائیوں پر سر اقدس رکھ کر سبحان ربی الاعلی پکارا تو خالق کائنات نے ادائے محبوب کو اتنا شرف توقیر بخشا کہ مقام اعلی عطا فرما دیا اور وہ سب سے جدا سب سے افضل و اکمل سب سے لامثال و اجود مقام سورۂ کوثر کی عطا ہے۔

مفسرین قرآن نے بالاتفاق سب سے مختصر مگر سب سے جامع سورۂ کا شان نزول یوں بیان کیا کہ اعلائے کلمۃ الحق کی پاداش میں حضور سرور کائنات ؐ کو دشمنان اسلام کی طرف سے ایسے ایسے مصائب و بلیات کا سامنا کرنا پڑا کہ صحرائے عرب کے سنگ ریزے تو کیا، پہاڑ بھی اس کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ صحرائے مغیلان عرب سے آپؐ کے نازک اندام تلووں کو مجروح کیا جاتا۔

وہ خیرالخلائق ہستی جس کی ایک ایک سانس مبارک سے خوشبوئے عطرِ محبت آتی تھی اور جو صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے آہوان عرب کو قعر مذلت میں گرنے سے بچانا چاہتی تھی، اسے گالیاں دی جاتی تھیں حتیٰ کہ دشمنان دین قیم اس بہیمانہ اور بیہودہ سوچ کے اسیر بھی بن گئے کہ جناب عبداللہ کے یتیم فرزند ارجمند کو (معاذ اللہ) اپنے راستے سے ہٹا دیا جائے۔ یہ تو اُس محسن انسانیت کو جسمانی تکالیف پہنچانے کا طریقہ کار تھا مگر جب عالم طاغوت و کفر ان ہرزہ سرائیوں کو بھی کم تصور کرتا ہے تو پھر وہ ذہنی اذیتوں کے نت نئے طریقے اختیار کرتا ہے۔

آقائے دو جہاںؐ جب ابتلا کے اس کرب ناک دور سے گزر رہے تھے تو اس دوران آپؐ کے دو صاحب زادگان یکے بعد دیگرے حکمت الٰہی سے وصال فرما گئے۔ یوں حضور سرور کونین ﷺ کو اپنے جگر گوشوں کی فرقت کا صدمہ بھی اٹھانا پڑا۔

حضورؐ کے اس احساس کو ذہنی کرب میں بدلنے کے لیے آمنہ کے دریتیم اور سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کے والد ذی احتشام پر ایسے ایسے حیا سوز اور اخلاق باختہ فقرے کسے گئے کہ شیطان بھی اعتراف کمال پر مجبور ہوجائے۔ انسانیت کے سب سے عظیم خیرخواہ اور خیر البشر حضور سید دو عالم ؐ کو کفار کی طعنہ زنی پر سخت صدمہ پہنچا اور آپؐ مغموم و بے قرار رہنے لگے ۔ کفار کا ہدف بس یہی سوچ تھی کہ اب آپؐ کا نام لیوا کوئی نہیں رہے گا، گویا

خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا

آنکھوں سے شرم سرور کون مکاں گئی

اس خزاں رسیدہ دور میں اللہ رب العزت کی رحمت و محبت ِ بے کراں جوش میں آگئی جلال کبریا پوری تمکنت سے چرخ نیلی فام سے ظہور پذیر ہوا۔ وہ ذوق تسخیر فطرت اور تابانی سحر کے تقدس کو اپنے دامن میں لیے نمودار ہوا۔ نسیمِ بہار کے جاں پرور اور حیات بخش جھونکے جو فرستادہ خداوندی تھے انھوں نے اعلان کردیا کہ محبوب رب العالمین، اے دانائے سبل، اے ختم رسل، اے رحمۃ للعالمین، اے اولاد آدم کی فتح مبین آپؐ کے تسکین خاطر کے لیے آپؐ کو ایک ایسا گراں بہا ایک ایسا عدیم النظیر تحفہ عطا فرمایا جا رہا ہے جو آج تک سیدنا آدم ؑ سے لے کر ابن مریم تک کسی نبی و رسول کو مرحمت نہیں فرمایا گیا۔

اس لامثال تحفے کا نام اس اعلان کے ساتھ فرمایا گیا ’’ انا عطینک الکوثر‘‘ ہم نے آپؐ کو کوثر عطا فرما دی اس خوب صورت انعام خدا وندی سے عام کفر کا شادیانہ طرب کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ہوا میں بکھر گیا، تالیاں پیٹنے اور گالیاں دینے والے طعنہ زنوں کی زبانیں طلوع آفتاب قیامت تک گُنگ ہوگئیں۔ کوثر کا لفظ اس قدر جامع و اکمل اور معنویت سے معمور ہے کہ اہل زبان تادیر اس کی توضیحات میں قرطاس و قلم کے تعلق کو آگے بڑھانے میں محو رہیں گے۔

اس سے مراد نہر کوثر بھی ہے جس سے حضور سرور کون و مکاں اپنے دست عطا سے تشنگان حق کے گلوئے خشک میں آب حیات ٹپکائیں گے اور وہ سرمدی نعمت سے مالا مال ہوں گے۔ اس سے مراد ذکر کثیر بھی ہے کہ خالق کائنات و رحمتِ کائناتؐ کا ذکر جمیل لازم و ملزوم ٹھہرا دیا گیا اور یہ ذکر کثیر اس کثرت سے ہوگا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ رطب اللسان نظر آئے گا۔ چراغ مصطفوی ؐ شرار بولہبی کو مٹا کر کائنات ہست و بود کو منور کر دے گا۔ سورۂ کوثر کے نزول سے تمنائے کفر و شرک پر اوس پڑگئی۔

حضور ؐ کی مدح و توصیف سنت ملائکہ و خدائے دو جہاں ٹھہری۔ ہر مسلمان کے قلب و جاں کی راحت آپؐ کا ذکر خیر ٹھہرا۔ حضور ﷺ کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دینے والے خائب و خاسر اور ناکام و نامراد بن گئے۔ ذکر حبیب خدا ﷺ سے لبوں کے تبسم آنکھوں میں تشکرانہ نمی، جبیں پہ ٹھنڈک، چہروں پہ شگفتگی اور پلکوں پہ نمی لے آیا۔ ساتھ اعلان خداوندی ہوا کہ اے حبیب آپؐ اس کے عوضانے میں قربانی کریں اور نماز ادا کریں۔ اس میں مخاطب حضور ہیں مگر حکم اُمت کو دیا جا رہا ہے کہ آپؐ کی امت بھی نعائم خداوندی پر اظہار تشکر کیا کرے۔

لبوں پہ آیا ہے جب بھی وہ اسم پاک میرے

دہن میں کوثر و تسنیم کو کِھلا دیکھا

اپنا تبصرہ بھیجیں