قصور):دو سال قبل قصور سکینڈل میں اب تک کتنے ملزم گرفتار ہوئے،کتنوں کو سزا ہوئی،اصل ملزم ابھی تک قانون ی گرفت سے کیوں باہر ہیں۔تفصیلات کے مطابق 2015میں ہونے والا قصور سکینڈل بھی بس کچھ عرصہ ہی توجہ کا مرکز بنا۔قصورمیں دو سال قبل 280بچوں سے زیادتی کی خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ان تمام بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کی ویڈیوز بنائی جاتی اور بعد ازاں اسے نیٹ پر بیچا جاتا تھا۔
اور ان کی ویڈیوز بنا کر والدین کو بھیجی جاتی اور انہیں بھی بلیک میل کیا جاتا تھا۔اس واقعے کے بعد اس پر جے آئی ٹی بھی تسکیل دی گئی۔میڈیا پر خبریں آنے کے بعد متاثرہ بچوں کے والدین نے 25افراد کے خلاف سات ایف آئی آرز درج کروائی گئیں۔نامزد ملزمان میں سے بارہ افراد گرفتار کئے گئے۔قصور سیکنڈل کے حوالے سے 19مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کئے گئے جن میں سے 4مقدمات کو دیگر عدالتوں میں منتقل کر دیا گیا تھا جب کہ چار مقدمات ابھی بھی زیر التوا ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دو ملزمان حصیم عامر اور فیضان مجید کو عمر قید کی سزا کے ساتھ تین لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی تھی۔متاثرہ افراد کے مطابق اس کیس کا مرکزی کردار علاقے کے ماسٹر ظفر کا بیٹا ندیم تھا تا ہم اثرو رسوخ رھنے والی شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے اس کا نام ایف آئی ار میں درج نہیں ہوا۔بہت سارے لوگوں نے دباؤ کی وجہ سے مقدمہ درج نہیں کروایا اور اس طرح با اثر افراد بچ نکلے۔
رانا ثنا اللہ نے بھی قصور سکینڈل کو زمینی تنازع قرار دیا تھا تا ہم جے آ ئی ٹی نے اسے حقیقت کا رنگ دیا۔لیکن قصور سکینڈل کے اصل ملزمان جیل کی سلاخوں سے باہر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قصور میں اس کے بعد بھی کئی بچوں سے زیادتی کے واقعات سامنے آ ئے ہیں لیکن ملزم ابھی بھی آزاد پھر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں