اسلام آباد :نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی روﺅف کلاسرا نے کہا کہ ڈاکٹرصاحب نے کہا کہ میرے پاس ملزم عمران کے 37بنک اکاﺅنٹس کی تفصیلات ہیں۔، بہت بڑا گینگ ہے۔ان کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ایک صحافی عدیل راجہ نے کہا کہ ملزم عمران کا ایک ہی بنک اکاﺅنٹ ہے اور دوسری بات ملزم عمران علی کا پاسپورٹ بھی نہیں ہے نہ ہی کوئی ٹریول ہسٹری ہے۔
جب ملزم عمران علی کا شناختی کارڈ نمبر پریس کانفرنس میں دکھایا گیا تو ہر بنک نے اپنے اپنے ریکارڈ میں عمران علی کا نام اور شناختی کارڈ نمبر چیک کیا ۔ جس کی وجہ سے عمران علی کا نام سرچ کرنے والے بنکوں کی فہرست بنتی گئی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے پیش کی گئی فہرست میں بنک اکاﺅنٹس کے نہیں بلکہ بنکوں کے نام اور فہرست موجودہے۔اس فہرست کو اکاﺅنٹ نمبرز سمجھے جا رہے ہیں۔
عدیل راجہ نے کہا کہ اگر نادرا سے عمران کا شناختی کارڈ نمبر لے کر سرچ کیا جائے تو کسی بھی بنک میں اس کا اکاﺅنٹ نہیں ہے۔آج صبح اگر کوئی اور بندہ سرچ کرنا شروع کر دے گا تو یہ فہرست 5,6سو تک ہو جائے گی کیونکہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کے بعد اس معاملے کو ہر کوئی ہی دیکھنے لگ گیا ہے ۔ جتنی مرتبہ عمران علی کا شناختی کارڈ نمبر چیک ہو گا اتنی ہی مرتبہ اس کا نام بنکوں کی فہرست میں سیمپل کے طور پر اکٹھا ہو تاجائے گا۔
یہ وہ بنکس ہیں جنہوں نے محض عمران کانام اپنے ڈیٹا بیس میں چیک کیا کہ کہیں اس کا کوئی اکاﺅنٹ ہمارے بنک میں تو نہیں ہے ، اور اسی فہرست کو عمران کے بنک اکاﺅنٹس کی فہرست قرار دے دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ملزم کے اکاﺅنٹ میں سولہ لاکھ یوروز ہونے کا دعویٰ بھی کیا تو جو قاتل 15دن تک پکڑا نہیں گیا اور اس کے اکاﺅنٹ میں سولہ لاکھ یورو ہوں تو کیا وہ قصور میں ہی بیٹھا رہے گا کہ آﺅ اور مجھے پکڑ لو۔ عدیل راجہ نے مزید کیا انکشافات کیے آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

اپنا تبصرہ بھیجیں