اسلام آباد : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ جو دستاویزات میں نے چیف جسٹس کو دئے ہیں ان کو انہوں نے سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے ویک اینڈ پر کراچی نہ جانا ہوتا تو میں اتوار کو ہی اس کیس کی مزید سماعت کرتا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ اس کے بعد یہ ہوا کہ چیف جسٹس چلے گئے اور عدالت نے کہا کہ پیر کو کیس کی مزید سماعت ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملزم عمران کے اکاﺅنٹس نہیں ہے تو پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کیوں بنائی ؟ یہ لوگ اس معاملے کو کور اپ کر رہے ہیں۔ میری قصور میں مسلم لیگ ن کے ایم این اے وسیم اختر سے بات ہوئی توانہوں نے مجھے بتایا کہ پولیس نے پچھلے سال عمران کو بچانے کے لیے پانچ لوگوں کو پیسہ لے کر مار دیاتھا۔ اب تو یہ مسئلہ ہائی پروفائل ہو گیا ہے ورنہ شاید اسے بھی مار دیا جاتا۔ڈاکٹر شاہد مسعودنے کہا کہ میں نے انوسٹی گیشن کی بات کی ہے ۔ میں تو کہہ رہا ہوں کہ میں نے دو چار چیزیں دی ہیں اس کی تحقیقات کر لیں۔ انہوں نےمزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

اپنا تبصرہ بھیجیں