اسلام آباد ۔: وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت انجینئر محمد بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ 2019ء میں تعلیمی شعبہ میں عالمی جائزہ کے لئے حکومت خود کو پیش کرے گی، پہلی جماعت سے پانچویں تک نیا نصاب ترتیب دے دیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جاری پانچویں سٹیک ہولڈرزکانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انجینئر بلیغ الرحمان نے کہا کہ تعلیمی جائزہ رپورٹ 2016ء کا اجراء لائق تحسین ہے۔ یہ پہلے سے بہتر رپورٹ ہے تاہم مستقبل میں اسے مزید بہتر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ ڈونرز کی بجائے حکومت نے اپنی فنڈنگ سے تیار کی ہے۔ حکومت 2019ء میں تعلیمی شعبہ میں عالمی جائزہ کے لئے خود کو پیش کرے گی، اس کے لئے تیاری شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی فنڈنگ پانچ سو سے بڑھا کر ساڑھے آٹھ سو ارب روپے کر دی ہے۔
ایچ ای سی کا بجٹ 41 ارب سے بڑھا کر 107 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کو ترویج اور صنعتوں سے لنک کر کے ترقی دی ہے۔ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نصاب کا جائزہ لیا تو پتہ چلا اکثر سکولوں میں 2000ء کا سلیبس پڑھایا جا رہا تھا۔ ہم نے پہلی سے پانچویں جماعت تک تک نصاب تیار کر لیا ہے جس میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نصاب کی تیاری میں ملکی و غیرملکی ماہرین تعلیم کو شامل کیا گیا ہے اور پاکستانی کلچرکے مطابق عالمی معیار کا نصاب ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ ہم نے بین الصوبائی وزرا تعلیم کی دس کانفرنسیں منعقد کرائی ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار تعلیمی معیارات ترتیب دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے لئے پائلٹ پراجیکٹ کامیابی سے جاری ہے۔ وفاق المدارس سے بات چل رہی ہے بہت جلد خوشخبری ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں