اسلام آباد: آسٹریا کے پاکستانی سفارتخانے میں پانچ ماہ قبل کلرک کی حیثیت سے تعینات کیا گیا فوجی اہلکار حساس دستاویزات کے ساتھ غائب ہو گیا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ ملک دشمنوں کا آلہ کار بن گیا ہے۔وزارت دفاع کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109 اور 409 کے تحت ترنول پولیس اسٹیشن میں اہلکار کی گمشدگی اور دستاویزات کے غائب ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ڈان نیوزکے مطابق ترنول کا رہائشی پاکستان فوج میں سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوا اور اسے گزشتہ سال آسٹریلیا کے شہر ویانا میں پاکستانی سفارتخانے میں کلرک تعینات کیا گیا۔ انہیں وزارت دفاع کی جانب سے حساس نوعیت کا کام سونپا گیا تھا۔انہیں وہاں پر چند اہم اور خفیہ قومی معاملات کا آفیشل انچارج مقرر کیا گیا تھا یہ بہت اہم کام ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت کیلئے بھی بہت حساسیت کا حامل ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گہا ہے کہ مذکورہ آفیشل رواں سال دو جنوری سے اپنی ڈیوٹی سے غیرحاضر پایا گیا اور جب سفارتخانے کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو حساس معلومات کی حامل دستاویزات بھی غائب تھیں۔اپنی گمشدگی کے بعد اس شخص نے اپنے اہلخانہ سے رابطہ کیا اور اپنی بیوی کو کہا کہ وہ اسلام آباد میں واقع اس کے والدین کے گھر میں منتقل ہو جائے۔سفارتخانے کے مذکورہ اہلکار کی بیوی کے مطابق ان کے شوہر نے اپنی مرضی سے سفارتخانے کو چھوڑا اور وہ پانچ سال بعد واپس آ جائیں گے۔
ایف آئی آر کے مطابق ابھی تک مذکورہ شخص نے محکمے یا ویانا میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کر کے اپنے ٹھکانے کے حوالے سے نہیں بتایا اور اس کی بیوی، والدین اور بھائی اس سے رابطے میں تھے لیکن انہیں پولیس سے اس کی معلومات شیئر کرنے سے گریز کیا ہے۔تھانے میں درج ایف آئی آر میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شاید مذکورہ شخص ملک دشمنوں کا آلہ کار بن گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں پولیس آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزارت دفاع نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحقیقات اور اہلکار کے اہلخانہ سے تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ٹھکانے کا پتہ لگا کر گرفتار کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں