اسلام آباد : ختم نبوتﷺ شق میں ترمیم کا معاملہ گذشتہ کچھ عرصے سے زیر بحث ہے تاہم اب اس معاملے پر وزیر مملکت محسن شاہنواز رانجھا نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ ختم نبوتﷺ کی شق میں ترمیم کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے غیر ملکی این جی او سے ایک ارب چالیس کروڑ روپے وصول کیے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھاکہ آپ جنیوا جائیں ، وہاں پر مائنارٹی پروٹیکشن آرگنائزیشن ہےجو اقوام متحدہ کے ماتحت کام کرتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنیوا میں پاکستان کے قانون سے ختم نبوتﷺ کی شق ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے ایک ارب چالیس کروڑ روپے لیے ہیں جبکہ پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین اُس ایم او یو کے ضمانتی تھے۔
محسن رانجھا کے ان الزامات پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان فارن فنڈنگ لینے والا کوئی نوازشریف ہے؟ الزام لگانے والے شیشے میں کھڑے ہوکر اپنے آپ کو دیکھ لیں۔ ایک ارب لے کر ختم نبوتﷺ کی ترمیم کیا عمران خان نے کروائی ہے؟ مجھے آپ یہ بتائیں کہ یہ جو تبدیلی آئی ہے اس قانون میں ترمیم ہم کرواسکتے ہیں؟محسن رانجھا کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی ہنگامہ برپا ہوگیا ۔ دونوں جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی تو کر ہی رہے ہیں لیکن غیر جانبدار لوگوں نے مطالبہ کیاہے کہ اس الزام کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں