لاہور:نقیب اللہ محسود کے ساتھ مارے گئے دیگر 3ملزمان کے بارے میں بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کے بارے میں بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ نے تینوں ملزمان کے بارے میں ریکار ڈ بھی طلب کر لیا ہے جس کے بارے میں سندھ ڈی آئی جی کو بھی معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے ۔
جبکہ دوسری جانب تینوں ملزمان کی شناختی کارڈ نمبر،تصاویر ،اور دیگر تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہے ۔یاد رہے کہ سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے کراچی کے علاقے میں مبینہ 4دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا کہ ان کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے ہے ۔اور نوجوان نقیب اللہ محسود کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس یہ صوبیدار کے قتل میں ملوث ہے اور مولوی اسحاق کا قریبی ساتھی ہے تاہم نقیب کے اہلخانہ نے راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دے دیا تھا جس کے بعد نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور چیف جسٹس پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔
بعدازاں سوشل میڈیا اور میڈیا پر معاملہ اٹھنے کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی نے نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پولیس پارٹی کے سربراہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو معطل کرکے گرفتار کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی جس پر انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں