اسلام آباد : سپریم کورٹ نے احاطہ عدالت میں سیاسی رہنماؤں کی میڈیا ٹاک پر پابندی عائد کر دی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس نے احاطہ عدالت میں سیاسی رہنماؤں کے میڈیا ٹاک کرنے پر پابندی عائد کر دی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ احاطہ عدالت میں کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہو گی۔میرے ادارے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اچھےاور مدلل مقرر ہیں۔ ہم بھی انہیں سننا چاہیں گے ۔خواجہ سعد رفیق نے عدالت میں کہا کہ مائی لارڈ! آپ یہاں بول سکتے ہیں لیکن ہم نہیں۔ چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق سے مکالمہ کیا کہ آپ گڑھے مردے نہ کھودیں۔
یہ نہ ہو کہ ادارے اس قابل نہ رہیں کہ آنے والی نسلوں کو انصاف نہ مل سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سعد رفیق تقاریر میں اکیلے ہی بات کرتے ہیں، وہ جہاں بات کرتے ہیں وہاں سوال جواب نہیں ہوتے لیکن اگر ہمارے سامنے بات کریں گے تو یہاں سوال جواب ہوں گے۔ سپریم کورٹ میں اب کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہو گی۔ جو بات کرنی ہے ٹی وی ٹاک شوز میں کریں۔ چیف جسٹس نے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی تقریر کی بھی تعریف کی اور کہا کہ عمران خان نے گذشتہ روز اچھی تقریر کی ۔
تمام تقاریر ہمارے پاس پہنچ جاتی ہیں۔ہم آپ کو سن لیتے ہیں لیکن جواب نہیں دے سکتے ۔ پرویز صاحب بھی اچھی تقریر کرتے ہیں مگر شفقت اور پیار سے ، ہم حوصلہ دکھا رہے ہیں اور دکھاتے رہیں گے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ اپنی توجہ ہٹا کر دوسرے معاملات میں اُلجھ جائیں۔ ہمارے تحمل کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ راجہ ظفر الحق سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ راجہ صاحب بڑے پارلیمنٹیرین ہیں۔ راجہ صاحب کو معلوم ہے کہ ہم پارلیمنٹ کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ اس ادارے کو بھی چاہئیے کہ ہماری عزت بھی برقرار رکھے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ تمام فریقین کی حاضری لگا دیں، ہمیں سینیارٹٰ کا تو نہیں پتہ لیکن سعد رفیق کا نام بولڈ میں لکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں