لاہور:پنجاب کے علاقے قصور میں 7سالہ ننھی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا ،ملزمان کی گرفتاری اور معاملے کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے مشترکہ تحقیاتی ٹیم (جے آئی ٹی )تشکیل دی گئی تھی جس کے بعد 23سالہ عمر فاروق کو حراست میں لیا گیا تھا جس کے بارے کہا جا رہا کہ زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا یہی درندہ ہے لیکن مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی جانب سے پیش کردہ اصل ملزم کو ڈی این اے ٹیسٹ نے بے قصور ثابت کردیا، جس کے بعد قاتل کی تلاش میں سرگرداں جے آئی ٹی زینب قتل کیس میں ایک مرتبہ پھر اندھیری گلی میں آ کھڑی ہوئی ہے اور اس کے پاس ملزم کا کوئی سراغ نہیں معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے تشکیل کردہ جے آئی ٹی نے مشتبہ ملزم کے ڈی این اے کے نمونے ایک ہفتہ قبل پنجاب فارنسک سائنس ایجنسی میں بھیجے تھے۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف سی اے) نے پیر (23 جنوری) مشتبہ شخص عمر فاروق کی زینب قتل کیس میں تصدیق نہیں کی۔ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کے اعلیٰ عہدیدار زینب قتل کیس میں بڑی کامیابی کی امید لگائے بیٹھے تھے کیونکہ مشتبہ شخص نے دوران تفتیش ‘اپنے جرم کا اقرار’ کر لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں