اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی این آر او نہیں ہو رہا ، انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے کوئی این آر او نہیں کریں گے۔ نہ چور ہیں نہ کوئی ڈاکا مارا ہے۔ این آر او کرنے والے پیپلز پارٹی اور ق لیگ میں بیٹھے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا میری حکومت کے خلاف سازش نہیں ہو رہی، میں سازشوں پر یقین نہیں رکھتا ، آئندہ الیکشن میں چار ماہ رہ رگئے ہیں، کوئی میرے خلاف سازش کر کے کیا کرے گا۔
نگران وزیراعظم سے متعلق انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعظم کا تقرر چوری چھپے نہیں ہو گا۔ نگران وزیر اعظم وہ ہو گا جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔ ماضی میں ایک نگران وزیر اعظم کیش رشوت وصول کرتا رہا ، اس کا 80 سال کا تجربہ تھا۔ اس نگران وزیر اعظم نے 43ہزار گیس کنکشن بیچے۔ آئندہ انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عام انتخابات جولائی میں ہی ہوں گے ۔
اسمبلی دو طریقوں سے تحلیل ہو گی ،یا نواز شریف کے کہنے پر یا پھر اسمبلی وقت پر تحلیل ہو۔ جب کو اسمبلی توڑنے کا شوق ہے وہ میرے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لے آئے۔ کسی میں ہمت ہے تو پارلیمنٹ توڑ کر دکھائے ۔ عدلیہ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ججز تعیناتی کی پارلیمانی کمیٹی عملاً عدلیہ کے سامنے بے بس ہے۔ عدلیہ کے کمزور ججز کا خمیازہ عوام کو بھُگتنا پڑتا ہے۔
امریکہ میں چھان بین کے بغیر کوئی بھی جج تعینات نہیں کیا جاتا ۔ن لیگ نے ہمیشہ میرٹ پر ججز کی تقرری کی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بینرز پر شاہد خاقان عباسی یا شہباز شریف کی فوٹو لگا کر ووٹ نہیں ملتے ،نواز شریف کی فوٹو لگا کر ووٹ ملتے ہیں۔ میں نواز شریف کی فوٹو لگا کرہی آئندہ الیکشن لڑوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ڈومور کا جواب دے دیا ہے۔ ہم اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے خطرناک وزیر اعظم ہوں کیونکہ میں صاف بات کہتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں