پی آئی اے کے سی ای او نے ائیر پورٹ اضافی سامان کی فیس ادا کر کے سب کو حیران کر دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کو اکثر مختلف وجوہات کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔لیکن پی آئی اے کی کاروباری منصوبہ بندی کی بہتری کے لئے نئی انتظامیہ کی طرف سے کی گئی حالیہ کوشیشیں بہتر ہیں۔
مختصر مدت میں مصنوعات کی بہتری اور قرضوں کی بحالی کی صورت میں پی آئی کی طرف سے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔لیکن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر مشرف سینان نے وی آئی پی کلچر سسٹم کے خلاف اعلی مثال قائم کرتے ہوئے سعودی عرب میں سرکاری دورے سے واپسی پر اپنے اضافی سامان کی فیس ادا کر کے وہاں موجود عملہ کو حیران کر دیا۔اور خود کو پی آئی اے کا سی ای او ظاہر کرنے کی بجائے تمام فیس ادا کی۔سی ای او (پی آئی اے) کے اس اقدام نے سب پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ قانون سب پر لاگو ہوتا ہے۔اور انہوں نے پی آئی پی کلچر کے خلاف ایک اعلی مثال قائم کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں