اسلام آباد:قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس دوسروں کو بہتر کرنے کی بجائے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں،عدالتیں انصاف کرنے کیلئے ہوتی ہیں حکمرانیکیلئے نہیں،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے،آصف علی زرداری رائوانوار کو سرپرستی نہیں کر رہے ،بے گناہ آدمی شہید ہوا انصاف ملنا چاہیے،رائو انوار تحقیقات میں پیش نہیں ہو گا تو جوڈیشل انکوائری ہو گی ، عمران خان کے اعلان کے بعد فوری استعفے آ جانا چاہیے تھے،تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے تو استعفے آ سکتے ہیں،مگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہوشیارہیں،استعفوں کے معاملے پر تحریک انصاف کے ڈبل سٹینڈرڈ ہیں،استعفوں کی بات سسٹم کو ڈسٹرب کرنے کیلئے کی گئی، جمہوری پارٹی ہیں سسٹم ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔
وہ پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میںمیڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہعمران خان کی جانب سے استعفوں کے اعلان کے بعد فوری استعفے آ جانا چاہیے تھا،لیڈر نے کہہ دیا تو فوری استعفے آنا چاہیے تھا،استعفیٰ کے اعلان کے بعد دنوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا،استعفوں کی بات سسٹم کو ڈسٹرب کرنے کیلئے کی گئی،ہم جمہوری پارٹی ہیں سسٹم ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے 11 کروڑ سے زائد پارلیمنٹ سے تنخواہیں مراعات لیں،عمران خان نے بھی 70 سے 80 لاکھ لیے وہ واپس کرے،استعفوں کے معاملے پر تحریک انصاف کے ڈبل سٹینڈرڈ ہیں،تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے تو استعفے آ سکتے ہیں،مگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہوشیارہیں۔ لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ نیب کے بلانے پر کوئی پیش نہ ہو تو نیب کے قانون کی آزمائش ہے،قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ادارہ ختم ہو جائے گا، ادارہ نہیں چل سکے گا،یہ وہ دور نہیں کہ دوہرا معیار ہو،قانون کی دھجیاں اڑتی رہیں،ادارے خاموش تماشا دیکھتے رہے تو ادارے ختم ہو جائیں گے،ایک دوسرے سے گھس بیٹھنے سے اداروں کا نقصان ہوتا ہے،اداروں کا نقصان اپنی جگہ ریاست بھی کمزور ہوتی ہے،ریاست کی کمزوری سے افرا تفری پھیلتی ہے۔ پھر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس دوسروں کو بہتر کرنے کی بجائے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں،عدالتوں کے پاس 8 لاکھ کیسز پنڈنگ ہیں۔ اس کو بھی گورننس ہی کہا جاتا ہے،پہلے اپنے ادارے کو ٹھیک کریں پھر دوسروں کو بھی ٹھیک کرنے کی اجازت ہے،عدالتیں انصاف کرنے کے لیے ہوتی ہیں حکمرانی کے لیے نہیں۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 35 کی جانی چاہیے،پنجاب ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 60 سے 80 جبکہ سندھ میں 45 تک ہونی چاہیے۔
ایس پی رائو انوار کی سرپرستی سے متعلق اپوزیشن لیڈر نے سختی سے تردیدکرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری رائونوار کی سرپرستی نہیں کر رہے،سرپرستی سے متعلق تمام خبریں غلط ہیں،بے گناہ آدمی شہید ہوا انصاف ملنا چاہیے،رائو انوار تحقیقات میں پیش نہیں ہو گا تو جوڈیشل انکوائری ہو گی،جوڈیشل انکوائری سے راو انوار کی پریشانی میں اضافہ ہو گا،راو انوار کو بھاگنا نہیں سامنا کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں