لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ نوٹس پرنیب کیساتھ عوامی عدالت میں بھی جاؤں گا،آئندہ الیکشن جیت کراحتساب کےنئے نظام کے تحت قوم کی لوٹی دولت واپس لائیں گے،جس طرح آج مجھے چائے پربلایاگیااس طرح مخالفین کونہیں بلایا جاتا،چیئرمین نیب نےرائیونڈکیس کھولا،لیکن مشرف کے سیکرٹری ارشدوحیدکوکلین چٹ دے دی۔
انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب میں بلایا جانا بدنیتی کے سوا کچھ بھی نہیں۔نیب نہ بھی جاتا توبیان لکھ کربھیج سکتا تھا۔لیکن نیب گیااور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں رہا۔مجھ سے سوال کیاگیا کہ آپ نے قانون اور ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے۔شہبازشریف نے کہاکہ مجھ سے تین سوال پوچھے گئے۔مجھ پرقوانین کی خلاف ورزی کاالزام عائد کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ رولز آف بزنس کے مطابق حکومت کوترقیاتی منصوبوں کاجائزہ لینا ہوتاہے۔ترقیاتی منصوبوں کوبنانے والی کمپنیاں 100فیصد حکومت کی کمپنیاں ہوتی ہیں اور بورڈز کے چیئرمین بھی حکومت تعینات کرتی ہے جبکہ حکومت ہی فنڈز فراہم کرتی ہے۔جبکہ ان منصوبوں اور فنڈز کی نگرانی حکومتوں کی ہوتی ہے۔میں نے نیب حکام سے کہاکہ اگرقوم کاپیسا بچانااور کرپشن روکنا جرم ہے اگر میں نے اس کیلئے حدیں پھلانگی ہیں توایک ہزاربار لائن کراس کروں گا۔
انہوں نے کہاکہ کل چنیوٹ کے حوالے سے اشتہارآیاتھا۔2007ء میں پرویز مشرف کے سیکرٹری ارشد وحید کوبغیربولی اور ٹینڈرکے چنیوٹ کاٹھیکہ دیاگیا۔معاہدہ بھی دستخط ہوگیا۔80فیصد شیئران کودے دیے گئے۔یہ ٹھیکہ جس کی مالیت 4ارب ڈالر تھی۔جب لاہورہائیکورٹ نے 2010ء میں فیصلہ دیاکہ یہ بہت بڑا فراڈ ہواہے،توانہوں نے اس کونیب کے حوالے کرنے کافیصلہ دیا۔
کہ انکوائری کی جائے۔میں ان سے کہاکہ کیاآپ نے اس کی انکوائری کی؟ لیکن نیب نے 14مئی 2013ء کو ارشد وحید کوکلین چٹ دے دی۔انہوں نے کہاکہ رائیونڈ روڈ کاکیس جوبندہوگیاتھا وہ تودوبارہ کھول دیا ،جبکہ یہ کیس 2014ء میں بند کردیاگیاتھا۔لیکن نیب کے نئے چیئرمین کویہ توفیق نہیں ہوئی کہ اس کیس کودوبارہ کھول دیتی۔اس سے بڑادھوکہ اور غریب عوام کے زخموں کونمک چھڑکنا اور کیا ہوسکتاہے؟ انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب نے پنجاب کی 56کمپنیوں کاریکارڈ منگوا لیاہے۔
انہوں نے کہاکہ مجھے نیب حکام نے پوچھا کہ آپ نے چوہدری لطیف کامعاہدہ کینسل کرکے آشیانہ ہاؤسنگ میں 193ملین کانقصان پہنچایا۔پی ایل ڈی سی نے چوہدری لطیف کا معاہدہ منسوخ کیا۔چوہدری لطیف کومنسوخ کرکے کاسا کوکنٹریکٹ دے دیا۔یہ کنٹریکٹ ہاؤسنگ اسکیم کا نہیں بلکہ انفراسٹرکچرکے لیے تھا۔شہبازشریف نے مجھے بتایا کہ جب مجھے اطلاع ملی کہ کنٹریکٹ میں گڑبڑ ہوئی توکمیٹی بنادی۔
طارق باجوہ کی کمیٹی انکوائری میں یہ باتیں ثابت ہوگئیں۔میں سی سی اوکوفوری معطل کیااور ایل ڈی اے کومعاملہ سونپ دیا۔کنٹریکٹ کیلئے 51درخواستیں آئیں۔شہبازشریف نے کہاکہ میں نے نیب حکام کوبتایاکہ میں نے ایکشن لیااو راینٹی کرپشن سے انکوائری کروائی۔اگر میں ایسا نہ کرتاتوآ ج آپ بھی مجھ موردالزام ٹھہراتے ۔جس پرنیب حکام چپ ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ جنرل کیانی کازمانہ تھا جس نے رینجرزسے زمین واپس کروائی۔آشیانہ قائداعظم میں 1700گھر بنائے گئے۔آشیانہ قائداعظم ہاؤسنگ کی فنڈنگ پنجاب بینک نے کی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہاں گھروں میں بے سہارا اور غریب لوگ مقیم ہیں۔غریب آدمی کوسبسڈی دینی پڑتی ہے ورنہ وہ ایک کمرہ بھی نہیں بناسکتے۔انہوں نے کہاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کااصول پوری دنیامیں موجودہے۔
انہوں نے کہاکہ احتساب کا نیا نظام لائیں گے اور نئے نظام کے تحت دنیا کے جس کونے میں بھی قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے وہ واپس لے کرآئیں گے۔ نیب نے مجھے بدنیتی پربلایا ۔نیب میں اربوں کی کرپشن کے کیسز پڑے ہیں لیکن ایکشن نہیں لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آج مجھے چائے پربلایا گیا اس طرح مخالفین کونہیں بلایا جاتا۔ کیاقوم کاپیسا بچانا جرم ہے؟ اگر یہ جرم ہے تویہ جرم ہزاربار کروں گا۔آئندہ نیب بلائے گا توآئین و قانون کی حکمرانی کیلئے ضرور جاؤں گا۔لیکن آئندہ نوٹس ملاتونیب کے ساتھ عوامی عدالت میں بھی جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن آتے جاتے رہتے ہیں لیکن احتساب کاکڑاعمل جاری رہنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں