اسلام آباد : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے کہاکہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ احتجاج کرر رہے ہیں، ہم نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ایک احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے اور اس کیمپ کا نام سقوط میڈیا کیمپ ہے۔ سقوط کا مطلب ہے مقبوضہ۔ ان کا کہنا تھا کہ 25نومبر2017ء سیاہ دن ہے کیونکہ اس دن پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا ) نے پرویز مشرف کو بھی مات دیتے ہوئے دو ہاتھ آگے جا کر الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کر دی۔
پرویز مشرف نے 3نومبر 2007کو صرف الیکٹرانک میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔ لیکن پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت نے پچیس نومبر کو انتہائی بھونڈے اندا زمیں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی۔ ہم اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ابھی تک پیمرا کی جانب سے اس اقدام کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی جا سکی ۔پیمرا نے موقف اختیار کیا ہے کہ تمام ٹی وی چینلز دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کو ایسی کوریج دے رہے تھے کہ شر انگیزی پھیل رہی تھی۔
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ الیکٹرانک میڈیا نے حکومت کے ساتھ مل کر اس تمام تر معاملے کو مس ہینڈل کیا ہے۔ آج مسلم لیگ ن کی جمہوری حکومت کے دور میں میڈیا قطعی طور پر آزاد نہیں ہے۔ دھرنے والے لاہور سے چل کر راولپنڈی پہنچے تو ہم نے بلیک آﺅٹ کیا کیونکہ ہمیں ہدایات دی گئی تھیں کہ کوریج نہ دی جائے۔ دھرنے کو بڑے بڑے ٹی وی چینلز نے کوریج نہیں دی ، لیکن جب ہم نے اٹھانا شروع کیا تو پھر لوگوں کو پتہ چلا ، دھرنے کے خلاف عدالتوں نے بھی نوٹس لیا اگر شروع میں ہی ٹی وی چینلز اس ریلی کے بارے میں بتا دیتے کہ غلط ہورہا ہے تو شاید یہ معاملہ طوالت اختیار نہ کرتا۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ جب تک ٹی وی چینلز پیمرا کی ڈکٹیشن لیتے رہتے ہیں تب تک ٹھیک ہے، جب تک ٹی وی چینلز پیمرا کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے رہتے ہیں وہ ٹھیک ہیں لیکن جیسے ہی وہ اپنی آزادی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ساتھ ہی جمہوریت اور آئین اور قانون کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جس کے بعد ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے،حکومت نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر ہم نے پابندی لگوائی ہے، پیمرا نے بھی کہا کہ حکومت کے کہنے پر پابندی عائد کی گئی۔
جس سے صاف ظاہر ہے کہ پیمرا وفاقی حکومت کا آزاد ادارہ نہیں ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیمرا کو آزاد کیا جائے۔ ورنہ میں یہی کہوں گا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو مل کر پیمرا کی آزادی کے لیے تحریک چلانی چاہئیے۔ ان کا مزید کیا کہنا تھا آپ بھی دیکھیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں