پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پن بجلی کے مکمل شدہ منصوبوں سے لوڈ شیڈنگ میں کافی حد تک کمی آجائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ان مکمل شدہ بجلی گھروں میں 36میگا واٹ درا ل خوڑ پاور پراجیکٹ ، 17میگا واٹ رانولیا کوہستان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 2.6میگا واٹ مچئی مردان ہائیڈرو پاور پراجیکٹس شامل ہیں۔
انہوں نے یہ باتیں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کیں۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے سیکرٹری انرجی اینڈ پاور انجینئر نعیم خان اور چیف پلاننگ آفیسر زین اللہ بھی موجود تھے۔ خیبر پختونخوا میں مکمل کئے جانیوالے توانائی کے منصوبوں کے ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے حائل مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔
اسکے علاوہ رانولیا اور درال خوڑ بجلی گھروں کیلئے پاور پرچیسز ایگریمنٹ کرنے پر اتفاق ہوا۔ جبکہ 2.6میگاواٹ مچئی پاور پراجیکٹ کے بارے میں وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت پہلے سے ہوچکی ہے۔ توانائی منصوبوں کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے مختلف اراکین کیلئے بجلی کے مد میں ادائیگی کے بعد بھی پیسکو کی طرف سے بجلی کے سامان نہ خریدنے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔
وفاقی وزیر نے صوبائی وزیر توانائی محمد عاطف خان کو یقین دلایا کہ یہ مسئلہ جلد حل کرلیا جائیگا۔ اور پیسکو حکام سے لسٹ طلب کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔ اسکے علاوہ توانائی کے پہلے سے مکمل شدہ منصوبے پیخور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیساتھ ایگریمنٹ کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ اس موقع پر محمد عاطف خان نے کہا صوبہ خیبر پختونخوا بجلی پیداوار کے وسائل سے مالا مال ہے اور مختلف پراجیکٹس پر صوبائی حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر پہلے سے کام شروع کررکھا ہے۔
تاہم ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاور پرچیسز ایگریمنٹ اور دوسرے طریقہ کار وفاق آسان اور سہل بنائے تاکہ ملک میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیساتھ ساتھ ان منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکیں اور حاصل ہونیوالی آمدن دوسرے نئے پراجیکٹس پر خرچ کی جاسکے۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوجائیں گے بلکہ ملک سے بجلی بحران کے خاتمے میں بھی مدد مل سکے گی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بجلی کے وسائل کے ساتھ خیبر پختونخوا میں آئل اور گیس سیکٹر میں بھی بہت زیادہ وسائل موجود ہیں جن سے فوائد حاصل کرنے کیلئے منصوبہ بندی شروع ہے تاکہ ہم اس سیکٹر میں بھی خود کفیل ہوسکیں۔ چھوٹے پن بجلی گھروں کے حوالے سے محمد عاطف خان نے کہا کہ 356چھوٹے پن بجلی گھر پراجیکٹس ان علاقوں میں لگائے گئے ہیں جہاں بجلی کی ترسیل ناممکن تھااب ان علاقوں کے لوگ انتہائی کم ریٹ پر بجلی کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں اور ان بجلی گھروں میں نہ تو لوڈ شیڈنگ کا تصور ہے اور نہ ہی دوسرے مسائل کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں