حافظ آباد:تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ اسحاق ڈارکونوازشریف کارازدان ہونے کی بناء پرتحفظ حاصل ہے،خواجہ آصف سے متعلق اگلے ہفتے بہت کچھ سامنے لائیں گے،شہبازشریف کیخلاف بھی جلد کیس لگنے والاہے،میرشکیل الرحمن بھی نوازشریف کے ساتھ نیچے جائیں گے،اقتدارمیں آکردینی مدارس کے بچوں کی بھی مکمل ذمہ داری اٹھائیں گے۔
انہوں نے آج حافظ آباد میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نوازشریف کی اقتدارسے باہرتھے توایک فیکٹری جبکہ اقتدار میں آنے کے بعد 30فیکٹریاں بن گئیں۔اقتدارمیں آکرپیسابنانا،بینکوں سے قرضے لیکر پیسابناناآسان ہوتاہے ۔مغرب میں اقتدار میں آکرذات کوفائدہ نہیں پہنچایا جا سکتا۔مغرب میں کوئی بھی اقتدار میں آکرفائدہ اٹھائے توجیل ہوجاتی ہے۔
کرپشن سے عوام ے ٹیکس کاپیسا عوام پرخرچ ہونے کی بجائے کرپٹ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کامطلب چوری کا پیسا ملک سے باہربھیج دینا۔ہرسال ایک ہزارارب منی لانڈرنگ سے باہرچلا جاتا ہے۔ ڈالرباہرجاتا ہے توآئی ایم ایف سے قرضے لینے پڑتے ہیں۔جب ملک مقروض ہوجاتاہے توٹیکسزبڑھتے ہیں اور مہنگائی بھی بڑھتی ہے۔
نوازشریف نظریہ کرپشن ہے۔نوازشریف کو300ارب روپے ملک سے باہرلے جانے پرنکالاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ ایک وزیرخزانہ جس پرکرپشن اور منی لانڈرنگ کاکیس ہے وہ ملک سے بھاگا ہوا۔لیکن شاہد خاقان عباسی میں جرات نہیں کہ استعفیٰ لے سکے۔انہوں نے کہاکہ اسحاق ڈارکوسب معلوم ہے کہ شریف فیملی کے پیسے کہاں پڑے ہوئے ہیں۔اسحاق ڈارکونوازشریف کارازدان ہونے کی بناء پرتحفظ حاصل ہے۔
90کی دہائی میں اسحاق ڈار سوارب شریف فیملی کا ملک سے باہرلے کرگیا۔اسحاق ڈارکے بچے آج ارب پتی ہیں۔دبئی میں اربوں کی عمارتیں ہیں۔اگلے ہفتے خواجہ آصف سے متعلق بہت کچھ سامنے لائیں گے۔خواجہ آصف دبئی میں 16لاکھ روپے تنخواہ لے رہاہے۔شہبازشریف کیخلاف بھی جلد کیس لگنے والاہے۔وزیراعظم ،وزیرسب چوری کررہے ہیں توپھر وہ ملک کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟ وزیراعظم چوری کرے تووزیروں کونہیں روک سکتا،جب وزیرکرپشن کریں توپھر ماتحت محکموں کونہیں روک سکتے۔
انہوں نے کہاکہ 50سال پہلے ملک اقتصادی طورپرآگے تھا۔ملک اس وقت ترقی کرتاہے جب ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ میر شکیل آپ پیسے کے پجاری ہو۔میڈیاکاگارڈفادر پیسے لیکرشریف خاندان کادفاع کررہاہے۔شکیل الرحمن آپ کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ آپ بھی جیل جائیں گے۔لیکن اگرآپ کرپٹ نوازشریف کوبچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔توآپ بھی ملوث شمارہوں گے۔صحافت مقدس پیشہ ہے۔ظلم کیخلاف کھڑاہوتاہے۔لیکن جب اس طرح کے میڈیاہاؤسز پیسے لیکر عوام کیخلاف کام کرتاہے تواس طرح کابائیکاٹ ہوناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کونوکریاں مل جاتی ہیں، دینی مدارس کے بچوں کی بھی ذمہ داری ہم لیں گے۔کمزورطبقا ت کواوپرٹھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں