نام نہاد نائن الیون کے بعد جب پرویزمشرف ایک امریکی ٹیلی فون کال پر سرنڈر ہو گئے اور پاکستان کو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا دیا گیا، امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ تک فراہم کر دی گئی تو وطن عزیز میں دہشت گردی کے خوفناک اور ہولناک واقعات نے جنم لینا شروع کر دیا۔ روزانہ کئی کئی مقامات پر بم دھماکے اور خودکش حملے ہوتے رہے۔
کئی روز تو ایسے ستم گیر ہو کر گزرے کہ دو سے تین خودکش حملے بھی ملک کے طول و عرض میں ہوتے رہے، سیکورٹی فورسز تک کو نشانہ بنایا جانے لگا، پولیس دہشت گردوں کے ہدف پر آئی تو پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو بھی دہشت گردوں نے معاف نہیں کیا۔ ایک موقع ایسا بھی آیا جب دہشت گرد جی ایچ کیو کے اندر تک داخل ہو گئے۔ جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں اتنی جانوں کا نقصان ہوا کہ لوگ اس حد تک شکار ہو گئے کہ پبلک مقامات پر آمدورفت معمول سے کم ہو کر رہ گئی اور اس طرح سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص ایک ایسی ریاست کے طور پر ابھرا جو دہشت گردوں کے شکنجے میں تھی اور دیار غیر میں بیٹھے بین الاقوامی سرمایہ کار یہ تصور کرنے لگے کہ پاکستان میں کوئی شخص بھی کسی بھی مقام پر محفوظ نہیں۔
لہٰذا غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیاں شدید تنزلی کا شکار ہو گئیں۔ جس پر ملک بھر میں امن و عامہ کی صورت حال بھی حد سے زیادہ بگاڑ کا شکار ہوئی۔ ظاہری سی بات ہے کہ جب روزگار کے مواقع کم ہو جائیں اور معیشت کمزور ہو کر مہنگائی کے طوفان کو جنم دے تو پھر بے یارومددگار اور بھوکے پیٹ لے کر گھومنے پھرنے والے افراد جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بہرحال ایک موقع ایسا آیا جب پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں نے خون کی بدترین اور انسانیت کو لرزا دینے والی ہولی کھیلی، معصوم بچوں پر اندھادھند فائرنگ کی گئی اور کئی بچوں کو شہید کر دیا گیا۔ اس واقعہ پر پورے ملک میں سوگ کی فضا نے حد سے زیادہ جنم لیا اور تمام سیاسی جماعتیں، پاک فوج اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اکٹھی ہوئیں اور نیشنل ایکشن پلان تشکیل دے دیا گیا۔
اس نیشنل ایکشن پلان کے تحت عملدرآمد شروع ہوا دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی۔ دہشت گردی کے واقعات کم ہونے لگے۔ سندھ میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز کو اختیارات ملے اور بلاتفریق رینجرز نے کارروائی شروع کر دی لیکن نیشنل ایکشن پلان کے تحت سندھ بلوچستان اور صوبہ کے پی کے میں تو عملدرآمد اس انداز میں ہوا کہ رینجرز کو اختیارات تفویض ہوئے لیکن پنجاب کی سطح پر رینجرز کو اس طرح کے وسیع اختیارات کی بجائے صوبائی حکومت نے سی ٹی ڈی کے نام سے ایک محکمہ قائم کر دیا جس کے تحت رینجرز، پولیس اور سی ٹی ڈی کے ماہر افسران اپنے فرائض سرانجام دینے لگے۔
اس فورس کو قائم کرنے میں پنجاب کے شہید صوبائی وزیرداخلہ شجاع اللہ خانزادہ نے اہم کردار ادا کیا۔سی ٹی ڈی قائم ہوئی اور پنجاب حکومت نے اس محکمے کے قیام کے فوری بعد صوبے کے تمام شہروں میں بلاتفریق داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی کے خاطرخواہ انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس بیریئر اور ناکوں کی صورت میں سپیشل فورس تعینات کی جانے لگی جو ہر آنے اور جانے والے شخص کا مکمل ڈیٹا حاصل کرتے، گاڑی، بسوں، ویگنوں اور دیگر موٹروہیکلز کی تلاشی کے بعد انہیں کسی بھی شہر میں داخل ہونے دیا جاتا۔
بالخصوص ہر شہر کے موٹروے انٹرچینج انٹری اور ایگزٹ پوائنٹ پر پولیس نفری تعینات کی جاتی اور کئی علاقوں میں رینجرز کو بھی ڈیوٹی تفویض کرتے ہوئے تعینات کیا جانے لگا۔ موٹروے کے علاوہ جی ٹی روڈ اور دیگر ایسی شاہراہیں جو کسی بھی شہر، تحصیل یا ضلع کے لئے داخل ہونے اور وہاں سے اخراج کے طور پر استعمال ہوتیں ان مقامات پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار تعینات نظر آتے۔
سی ٹی ڈی فورس موجود رہتی مگر گزشتہ چند مہینوں سے سیکورٹی کے یہ معاملات ایک مرتبہ پھر عدم توجہی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ آپ موٹروے پر لاہور، فیصل آباد اسی طرح مخالف سمت سے پشاور یا اسلام آباد سے داخل ہوں اور راستے میں کسی بھی شہر، تحصیل یا ضلع میں داخل ہوں یا وہاں داخل ہو کر دوبارہ موٹروے پر انٹری لیں آپ کو زیادہ تر مقامات پر سیکورٹی کے ناپید انتظامات نظر آئیں گے۔
اس سے قبل ڈرائیور حضرات یا کسی بھی فیملی کے سربراہ یا بڑے کا شناختی کارڈ نمبر، اس کا نام، ولدیت اور ایڈریس باقاعدہ سیکورٹی پلان کے تحت ایک رجسٹر پر درج کیا جاتا تھا جس کے بعد اسے کسی بھی شہر میں انٹری کی اجازت دی جاتی تھی۔ اب یہ معاملہ چند شہروں کے علاوہ کہیں پر بھی نظر نہیں آ رہا۔ ہفتہ رفتہ کے دوران راقم نے لاہور موٹروے سے تن تنہا گاڑی پر انٹری لی۔
بابوسابو انٹرچینج سے انٹری لی اور وہاں پر موجود ناکے اور پولیس اہلکاروں کی تعداد نے صرف موبائل ٹارچ کے ذریعے گاڑی کو داخل ہونے دیا۔ اس کے بعد صرف معاملات کو پرکھنے کے لئے سکھیکی انٹرچینج سے ایگزٹ لیا، وہاں پر پولیس اہلکاروں نے شناختی کارڈ کے ذریعے انٹری کی لیکن بعدازاں جب ڈیڑھ کلومیٹر کی مسافت پر سکھیکی سے ہی دوبارہ موٹروے پر انٹری لی تو ناکے پر موجود پولیس اہلکار نیم نیند میں نظر آئے اور باآسانی انٹری ہو گئی۔
اس کے بعد فیصل آباد موٹروے کو کراس کر کے پنڈی بھٹیاں انٹرچینج سے انٹری لی تو کسی نے بھی کوئی چیکنگ نہیں کی اور پولیس بھی موجود نظر نہ آئی۔ بعدازاں پنڈی بھٹیاں ہی سے دوبارہ موٹروے پر انٹری لی اور کوئی چیکنگ یا ریکارڈ درج نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل لاہور جاتے ہوئے شیخوپورہ انٹرچینج سے شیخوپورہ میں انٹری لی گئی مگر وہاں پر ایک پولیس اہلکار بھی تعینات نظر نہیں آیا۔
ماضی میں شیخوپورہ کے اسی انٹرچینج پر پولیس کے علاوہ رینجرز بھی تعینات نظر آتے تھے اور یہ شیخوپورہ کا وہی انٹرچینج ہے جس سے تین کلومیٹر کی مسافت پر شیخوپورہ کا بتی چوک آتا ہے اور موٹروے انٹرچینج سے بتی چوک تک گاہے بگاہے سی ٹی ڈی مختلف کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو دھماکہ خیز مواد اور ممنوع بور کے اسلحہ سمیت گرفتار کرتی رہی ہے۔
فیصل آباد انٹرچینج پر بالاخر آنا ہی تھا اور رات کے تقریباً ایک بجے فیصل آباد ساہیانوالہ انٹرچینج پر پولیس بیریئر ہونے کے باوجود کوئی پولیس اہلکار تعینات نظر نہیں آیا۔ اسی انٹرچینج سے دوبارہ موٹروے پر انٹری لے کر جب سرگودھا روڈ فیصل آباد انٹرچینج پر آیا گیا تو وہاں پر بھی کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا حالانکہ سرگودھا روڈ موٹروے انٹرچینج پر کچھ عرصہ قبل تک رینجرز اور پولیس دونوں تعینات نظر آتے تھے مگر اب افسوس ایسا نظر نہیں آیا۔
پھر کینال روڈ پر رہائش ہونے کی بناء پر شیخوپورہ روڈ گٹ والا موڑ کے قریب فیصل آباد کی حدود کو کراس کیا تو نہ کوئی ناکہ اور نہ ہی کوئی پولیس اہلکار موجود نظر آیا۔ اس کے بعد پہلے شیخوپورہ روڈکے انٹرچینج سے قبل لاٹھیانوالہ گاوٴں کے موڑ سے واپس آ کر پھر شیخوپورہ روڈ پر گٹ والا موڑ کے قریب پولیس ناکہ نظر آیا جو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ شہر میں داخل ہونے والوں کی شناخت کی جائے، ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے لیکن اس ناکے پر موجود پولیس اہلکار بھی سائیڈ پر کرسیوں پر براجمان نیند میں نظر آئے اور انہوں نے بیٹھے بیٹھے ہی گاڑی کے ٹائروں پر ٹارچ کی لائٹ مار کر اپنا فرض سرانجام دے دیا۔
ایسے معاملات ہی فیصل آباد کے دیگر داخلی و خارجی راستوں جھنگ روڈ، سمندری روڈ، ستیانہ روڈ، جڑانوالہ روڈ، سرگودھا روڈ اور دیگر مقامات پر ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں دہشت گردی سے ہزاروں قیمتی جانوں کی شہادت کے باوجود نیشنل ایکشن پلان پر کس حد تک عملدرآمد ہو رہا ہے اور ہمارے پولیس حکام سمیت حکومت کا قائم کردہ ادارہ سی ٹی ڈی کس حد تک فعال اور متحرک ہے، یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز سے کس طرح ڈیوٹی لی جا رہی ہے؟ یہ معاملہ صرف کسی بھی شہر اور فیصل آباد کے داخلی و خارجی راستوں تک محدود نہیں بلکہ پبلک مقامات پر بھی سیکورٹی کے انتظامات انتہائی غیرمناسب اور غیرفعال نظر آ رہے ہیں۔
ریلوے سٹیشن، بس سٹینڈ، پبلک مقامات جیسے بازاروں، شاپنگ پلازوں، سستے بازاروں، چرچز، امام بارگاہوں اور مساجد کے باہر سیکورٹی کے انتظامات ایک مرتبہ پھر غفلت اور لاپرواہی کی نذر ہوتے ہوئے سیکورٹی بحران کی طرف بڑھ آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف پہلے سے زیادہ متحرک ہوں۔ صوبے کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ خاں اور آئی جی پنجاب کوئی سرکلر جاری کر کے پولیس کو متحرک کریں اور پنجاب بھر میں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کی سیکورٹی کے انتظامات کو خاطرخواہ بنانے کے ساتھ پبلک مقامات کی سیکورٹی کو اس انداز میں بہتر بنائیں کہ دہشت گردی کا خدانخواستہ کوئی نیا واقعہ رونما نہ ہو سکے۔
اگر ان نکات پر توجہ نہیں دی جاتی تو پھر نیشنل ایکشن پلان کا ڈھنڈورا کس لئے اور اس کی بازگشت سیاسی بیانات کی صورت میں عوام تک کیوں پہنچائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں