پسماندہ ممالک میں غربت اور بے روزگاری ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے نوجوان اچھے مستقبل کی امید میں ترقی یافتہ ممالک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج جہاں آبادی کے ساتھ ناخواندگی بھی زیادہ ہو ان ملکوں کے نوجوانوں میں زیادہ مایوسی اور ناامیدی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے روشن مستقبل کے لئے ایسے یورپی ممالک میں جانے کی تگ و دو کرتے ہیں اور جب سے دنیا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا مختلف ممالک نے امیگریشن قوانین میں بھی سختی کرنی شروع کر دی جس کی وجہ سے انسانی سمگلروں نے بھی سادہ لوح عوام کو اپنے شکنجے میں جکڑنے کی منصوبہ بندی کر لی۔
بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد بیرون ملک جا کر زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے چکر میں ”سنہرے خواب“ دیکھنے لگتی ہے اور بیرون ملک بھجوانے والے ایجنٹ بھی ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان کو پھانسنے کے لئے نت نئے حربے استعمال کرتے ہیں اس طرح وہ اس گروہ کے ہتھے چڑھ کر نہ صرف اپنا مال بلکہ اپنی جان بھی گنوا دیتے ہیں۔
گذشتہ دنوں پنجاب کے مختلف علاقوں کے ایسے ہی نوجوانوں کے ایک گروپ کو انسانی سمگلروں نے پنجاب کے یورپ لے جانے کے لئے ان سے بھاری رقوم پیشگی لیں اور ان کو لاہور سے کوئٹہ لے جایا گیا۔ وہاں سے غیر قانونی طریقے سے ان کو پہلے ایران لے جانا تھا اس کے بعد ترکی سے سپین پہنچانا تھا‘ لہٰذا وہاں جانے والے نوجوانوں کے والدین اور عزیز و اقارب نے بمشکل انسانی سمگلروں کے لئے رقوم اکٹھی کیں۔
اس سلسلے میں ان میں سے کسی نے قرض لیا‘ کسی نے زیور گروی رکھے اور یوں اپنے لخت جگروں کو دعاوٴں سے رخصت کیا۔ گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، منڈی بہاوٴالدین سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا یہ گروپ بلوچستان کے علاقہ تربت کے قریب پہاڑی علاقے میں پہنچا تو دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے پندرہ افراد ہلاک ہو گئے۔ بعدازاں مزید پانچ افراد کی لاشیں بھی اسی پہاڑی علاقے سے برآمد ہوئیں۔
اس طرح مجموعی طور پر پنجاب کے مختلف اضلاع سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد بیس ہو گئی تھی۔ ان نوجوانوں کی میتیں جب لاہور سے ان کے علاقوں میں پہنچیں تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ میڈیا پر دہشت گردوں کے ہاتھوں ان معصوم نوجوانوں کی ہلاکت پر خبریں آنے کے بعد حکومت نے بھی ایسے ایجنٹوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا اور اطلاعات کے مطابق کچھ انسانی سمگلروں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی بلوچستان اور ڈی جی ایف آئی اے سے بھی تین روز میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اور ان کو ہدایات بھی کیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کریں۔
دراصل بیرون ملک غیر قانونی طریقوں سے جانے والوں کو پھنسانے کے لئے ایجنٹوں نے اپنے کارندے بھی ایسے علاقوں میں رکھے ہیں جو نوجوانوں کو ”سبز باغ“ دکھاتے ہیں اور یوں وہ نوجوان ان کے چکر میں پھنس کر اپنی تمام جمع پونجی ان کے حوالے کر کے ان دیکھے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں ہی نہیں ایشیا کے کئی ممالک میں لوگ بڑی تعداد میں باہر جانے کے لئے ایسے ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور اکثر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور جو خوش قسمتی سے کسی طرح یورپی ممالک میں پہنچ بھی جائیں تو اکثر غیر قانونی طور پر اس ملک میں داخل ہونے کے جرم میں گرفتار ہو کر جیل کی ہوا کھاتے ہیں۔
اس وقت بھی ہزاروں پاکستانی جو غیر قانونی طور پر بیرونی ممالک میں گئے اور گرفتار ہو کر تھائی لینڈ، مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک کی جیلوں میں ہے اور ان کے عزیز و اقارب ان کی یاد میں تڑپ رہے ہوتے ہیں اور ان کو سنہرے مستقبل کے خواب دکھانے والے ان سے وصول کئے پیسوں پر عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف اب ملک میں آپریشن تیز تر کر دیا گیا ہے مگر ایسے عناصر کے شکنجے میں آنے والوں کو بھی احتیاط کرنی چاہئے کہ آج اس طرح بیرون ملک جانا سراسر گھاٹے کا سودا ہے اور اس میں مال کے ساتھ ساتھ جان جانے کا بھی خطرہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں