اسلام آباد:انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی وی حملہ کیس سمیت دیگر 3 مقدمات میں عمران خان کو پولیس کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیدیا۔اسلام آباد میں تحریک انصاف کے دھرنے کے وقت عمران خان پر چار مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں پی ٹی وی حملہ، پارلیمنٹ حملہ اور ایس ایس پی عصمت جونیجو تشدد کیس بھی شامل ہے۔
جمعہ کے روز چیرمین پی ٹی آئی کیس کی سماعت کے سلسلے میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے عدالت میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے موکل کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی۔ جج شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت قبل از گرفتاری میں استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ ٹرائل بہت اہم ہے لیکن استثنیٰ مل سکتا ہے، ایف آئی آر میں عمران خان پر صرف اشتعال دلانے اور للکارنے کا الزام ہے۔
عمران خان کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست پر سرکاری وکیل چوہدری محمد شفقت نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری میں ملزم کو استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا جب کہ ملزم عمران خان عدالتی حکم کے باوجود شامل تفتیش نہیں ہوئے، عمران خان نے کسی کے ہاتھ تفتیش کے لیے ایک کاغذ بھجوایا تھا۔اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان نے اپنا تحریری بیان تفتیشی افسر کو جمع کرایا ہے، سرکاری وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہونا ضروری تھا جہاں سوال و جواب ہونے تھے۔
عدالت نے عمران خان کی ضمانت قبل ازگرفتاری میں 7 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے عمران خان کو کیس میں شامل تفتیش ہونے اور چاروں مقدمات میں بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا، عدالت نے کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی۔۔عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سیاسی احتجاج کو دہشتگردی کی شکل دینا میرا منہ بند کرنیکی کوشش ہے، سیاسی لوگوں پردہشت گردی کا الزام لگایاجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرا موازنہ نواز شریف سے نہ کریں، میرا موازنہ نوازشریف سے کرنا ایسا ہے جیسا سلطانہ ڈاکو سے موازنہ کرنا ہے، نوازشریف اپنے پیسے بچانے کے لیے اداروں پر حملے کررہے ہیں، نوازشریف ایک مجرم ہیں وہ بتائیں ان کے پیسے کیسے باہر گئے‘۔چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں ادارے مضبوط ہوں، ہم ان کی عزت کریں، تمام جماعتوں نے کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔
نوازشریف 300 ارب روپے کی 29 جائیدادوں کا حساب دیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی ایک چور کو بچا رہے ہیں جب کہ قوم کو مقروض بنانے والا پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتاہے۔صحافی کی جانب سے سوال پر کہ سابق صدر پرویز مشرف عدالتوں میں کیوں پیش نہیں ہورہے، عمران خان نے کہا کہ میں نواز شریف سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے پرویز مشرف کو کیوں نکالا اور کیوں جانے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں