اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹی کے مقدمے میں مزید تحقیقات کے لیے برطانیہ جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے 2 ارکان عمران ڈوگر اور سلطان نذیر نے ویزا حاصل کرلیا ہے اور وہ آئندہ ہفتے برطانیہ روانہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپز کیس کے حکم کے مطابق نیب نے پہلے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ پراپرٹی سے متعلق نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دونوں صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہوا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما گیٹ کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی) کے برطانیہ حکام کو بھیجے گئے دستاویزات کے مطابق مریم نواز ایون فیلڈ پراپرٹی میں بینیفشل اونر ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیب کے تحقیقاتی رکن کوشش کریں گے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کردہ دستاویزات کی تصدیق کرسکیں تاکہ کوئی جے آئی ٹی اور نیب کی تفتیش پر اعتراض نہ اٹھاسکے۔تحقیقاتی رکن عمران ڈوگر اور سلطان نذیر کے برطانیہ میں قیام کے حوالے سے کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی ہے تاہم دونوں رکن ایون فیلڈ پراپرٹی کے حوالے سے معلومات کے لیے برطانوی انتظامیہ اور حکام سے ملاقات کریں گے۔
نیب ہیڈکوارٹر اس وقت برطانیہ کی مشہور اینٹی کرپشن ایجنسی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی ای) سے رابطہ میں ہے جبکہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن نیب کی ان سے ملاقات کا وقت ترتیب دے گا۔نیب کی جانب سے برطانوی انتظامیہ کو خط لکھا گیا تھا جس میں باہمی قانونی مدد( ایم ایل ای) کے تحت ایون فیلڈ ہاؤس پارک لین لندن کے 16، 16 اے،17 اور17 اے فلیٹوں کی تفصیلات مانگی گئیں تھیں۔
نیب کی ٹیم کی واپسی کے بعد نیب کے تحقیقاتی رکن احتساب عدالت میں ایون فیلڈ کیس میں پراسیکیوٹر گواہ بنیں گے اور عدالت کو برطانیہ میں کی گئی تحقیقات اور مشاہدوں سے آگاہ کریں گے۔شریف خاندان کے خلاف شواہد جمع کرنے کے لیے نیب کی ٹیم کچھ اہم گواہان سے بھی ملے گی اور ان کے بیان بھی قلمبند کرے گی جبکہ ٹیم کوشش کرے گی کہ وہ ایون فیلڈ کیس کے اہم ملزم حسن نواز اور حسین نواز سے ملاقات کرے اور ان کے بیان ریکارڈ کرے۔
واضح رہے کہ دونوں بھائیوں کو احتساب عدالت میں پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔یاد رہے کہ جمعرات کو نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص قدیر ڈار نے اپنی تین سالہ مدت پوری ہونے پر عہدہ چھوڑ دیا تھا اور ان کے متبادل کی تقرری تک فرائض ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد اکبر تراڑ انجام دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں