اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو مارچ 2018 کے بعد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ان کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہورہی ہے اور لگتا ہے کہ حکومت اس کی فوری تجدید کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔واضح رہے کہ مختلف عدالتوں کی جانب سے سابق صدر کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا جاچکا ہے، جن میں غداری کیس، بے نظیر بھٹو قتل کیس، لعل مسجد آپریشن کیس اور ججوں کی حراست کا معاملہ شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پرویز مشرف کو آخری جاری ہونے والا پاسپورٹ نمبر (AJ0848364) دبئی میں 2013 میں جاری ہوا تھا جس کی مدت 16 مارچ 2018 کو ختم ہورہی ہے۔خیال رہے کہ درست ویزا ہونے کے باوجود بھی زیادہ تر ممالک صرف ان لوگوں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دیتے ہیں جن کے پاسپورٹ کی معیاد داخلہ تاریخ سے 6 ماہ سے زائد عرصے تک برقرار ہو۔پرویز مشرف جو زیادہ تر دبئی میں قیام کرتے ہیں انہیں گزشتہ ہفتے برطانیہ جانے کی اجازت اس صورت میں دی گئی تھی کے وہ واپسی کا ٹکٹ تیار رکھیں گے کیونکہ پاکستانی سفارتخانی نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے برطانیہ جانے سے قبل ان کا پاسپورٹ تجدید نہیں ہوسکتا اور ان کی درخواست پر عمل درآمد کے لیے پہلے اسلام آباد کی منظوری کی ضرورت ہوگی۔
اگر حکومت ان کا پاسپورٹ تجدید نہیں کرتی تو سابق صدر کو 29 نومبر کو برطانیہ سے دبئی واپسی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اگر اس تجدید میں زیادہ وقت لگتا ہے تو کسی بھی مقام کا درست ویزا ہونے کے باوجود بھی وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔اس حوالے سے گزشتہ ہفتے دبئی سے واپس آنے والے آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے اس بات کی تصدیق کی کہ پرویز مشرف کو پاسپورٹ کی مدت 6 ماہ سے کم رہ جانے کے باعث برطانیہ کے دورہ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانے نے نہ صرف پرویز مشرف کی پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست کو مسترد کیا بلکہ توثیقی مہر بھی لگانے سے انکار کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی میں پاکستانی سفارتخانے نے سابق صدر کے پاسپورٹ کی تجدید کا معاملہ دفتر خارجہ کو بھیج دیا ہے جبکہ دفتر خارجہ نے اس معاملے پر وزارت داخلہ کی رائے مانگی تھی۔اس بارے میں جب دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ وزارت داخلہ کا اختیار ہے، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دفتر خارجہ کو دبئی میں سفارتخانے کی جانب سے ریفرنس موصول ہوا تھا، جسے رائے کیلیے وزارت داخلہ میں بھیج دیا تھا۔
ڈائریکٹر جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے حکام نے بتایا کہ تمام صدور کو آزادانہ طریقے سے سفارتی پاسپورٹ زندگی بھر رکھنے کا استحقاق ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سفارتی پاسپورٹ کی مدت پانچ سے بڑھا کر 10 برس کردی گئی تھی۔انہوں نے پاسپورٹ اور ویزا مینول 2006 میں سفارتی پاسپورٹ کے بیان کردہ قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کے علاوہ کسی سے بھی کسی بھی صورت میں سفارتی پاسپورٹ کے اجرائ کے لیے اجازت نہیں لینی ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ مینول کے پیراگراف 45 ای کے مطابق اگر ضرورت ہو تو بیرون ملک پاسپورٹ جاری کرنے والے حکام وزارت خارجہ کے اشارے پر سفارتی پاسپورٹ میں تجدید یا تبدیلی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شک کی صورت میں وزیر خارجہ کو پہلے ریفرنس کا حوالہ دیا جائے گا کیونکہ قوانین بہت واضح ہیں لہٰذا پرویز مشرف کے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے وزارت خارجہ کو ریفرنس بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ذرائع کے مطابق کیونکہ یہ ایک اعلیٰ سطح کا معاملہ ہے تو حکومت مشرف کو پریشان کرنے کے لیے شاید اس معاملے میں تاخیر سے کام لے سکتی ہے۔واضح رہے کہ قوانین کے مطابق سابق صدور، وزرائ اعظم، سینیٹ چیئرمین، قومی اسمبلی کے اسپیکرز، چیف جسٹس، گورنرز، وزرائ اعلیٰ، وزرائ اور وزرائ مملکت، وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور اٹارنی جنرلز کو سفارتی پاسپورٹ رکھنے کا حق ہے، اس کے علاوہ سابق صدور، وزرائ اعظم ، سینیٹ چیئرمین، قومی اسمبلی کے اسپیکرز کی اہلیان اور کفالت یافتہ بچے بھی سفارتی پاسپورٹ رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں