قومی سلامتی کمیٹی نے باجوڑایجنسی ،کوئٹہ میں دہشتگردحملوں اور مخالف ایجنسیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کااظہارکیا، بلوچستان کوسکیورٹی کیلئے مزید وسائل فراہم کرنے پراتفاق کیا،جبکہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کابھی جائزہ لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیرداخلہ احسن اقبال،وزیرخارجہ خواجہ آصف ،چیفس آف جوائنٹ سٹاف کمیٹی جنرل زبیر،آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ ،ایڈمرل ظفرمحمودعباسی، ایئرچیف سہیل امان سمیت سیاسی و عسکری حکام نے شرکت کی۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں باجوڑایجنسی چیک پوسٹ اورکوئٹہ میں دہشتگرد حملوں پراظہار تشویش کیا گیا، جبکہ پاکستان میں مخالف ایجنسیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پربھی تشویش کا اظہارکیا گیا۔مخالف ایجنسیاں پاکستان غیرمستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہیں،اجلاس میں سیکرٹری خارجہ نے شرکاء کوعلاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پربریفنگ دی۔
مسلم امہ کے کے مفاد میں پاکستان کاکردارنہایت اہم ہے۔امت مسلمہ کے مسائل کے حل کیلئے مئوثر کردارادا کرنے پراتفاق کیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے شرکاء نے بلوچستان میں قانون نافذکرنے والے اداروں کی کارکردگی کی تعریف کی گئی۔ پاک فوج نے قیام امن کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ بلوچستان میں سرحدی انتظامی امورپراظہاراطمینان کیا گیا۔ جبکہ بلوچستان کوسکیورٹی کیلئے مزید وسائل فراہم کرنے پربھی اتفاق کیاگیا۔وفاقی حکومت بلوچستان میں بہترین افسران کی تعیناتی پرعمل پیراہے۔بلوچستان میں سرحدی سکیورٹی کومزید بہتربنایاجائے گا۔اسی طرح ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت پرعملدرآمد یقینی بنانے پربھی اتفاق کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں