لاہور : اسمارٹ فونز کا دور دورہ ہوتے ہی صارفین میں انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال بڑھ گیا ۔ سوشل میڈیا کا استعمال کافی مثبت طریقے سے کیا جاتا ہے لیکن بہت زیادہ تعداد میں صارفین اس کا منفی استعمال بھی کرتے ہیں جس کے بُرے اثرات براہ راست کسی کی نجی زندگی پر پڑ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے پیش نظر حکومت نے 2016 میں سائبر کرائم آرڈیننس متعارف کروایا۔
اس بل کے بعد ایف آئی اے کے ماتحت ہی ایک سائبر کرائم ونگ بھی تشکیل دیا گیا اور کارروائیوں کا آغاز ہو گیا ۔ ایف آئی اے کے سائبر کروائم ونگ کو موصول ہوئی شکایات میں سب سے زیادہ ہراساں کیے جانے کی ہی رپورٹس تھیں جنہوں نے کئی گھر اُجاڑ دئے۔ ایسی ہی ایک درد بھری کہانی لاہور کے رہائشی فرحان مغل کی بھی ہے۔ اپنی کہانی اپنی زبانی بتاتے ہوئے فرحان مغل نے کہا کہ شادی کے بعد اڑھائی سال تک بیوی کے ساتھ زندگی بہت اچھی رہی ، لیکن اچانک سے ایک لڑکے کی وجہ سے سب کچھ ختم ہو گیا۔
فرحان کو تمام تر معاملات جھیلنے کے بعد اس افسوسناک بات کا علم ہوا کہ ان کی بیوی بھی بلیک میل کرنے والے اپنے آشنا کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ فرحان نے بتایا کہ میرے بہنوئی نے ایک ہی دن میں میری شادی کروا دی ، مقلاوے والے دن ہی بس اسٹاپ پر ایک لڑکا پیچھا کرنے لگا ، میری اہلیہ مجھے گھر لے آئی اور گھر آ کر بتایا جس پر میں نے کہا کہ جو بھی زندگی گزری ہے وہ گزر گئی ہے، ہمیں اب اپنی زندگی بنانی ہے۔
اس کے بعد ہم دونوں نے ایک ساتھ رہنے اور ایکدوسرے کو چھوڑ کر نہ جانے کا وعدہ کیا ۔ وہ لڑکا مجھے اور میری بیوی کو بلیک میل کرتا تھا ، پھر اس نے تنگ کرنا شروع کیا اور ایک دن دھمکی آمیز خط اور تصاویر میرے گھر کے پتے پر ارسال کر دیں۔ میں نے اس سب کی ایف آئی آر درج کروائی جس میں میری بیوی بھی ساتھ تھی اور ملزم کے خلاف اس نے گواہی بھی دی۔
اس کے بعد بلیک میل کرنے والے لڑکے کے باپ نے میرے سسر کے گھر جا کر بھی بلیک میل کیا۔ملزم نے دوستوں کے ساتھ ملک کر میری سالیوں کو بھی ساتھ ملایا اور انٹرنیٹ پر میری بیوی کی تصاویر بھی لگائیں ۔ میں دوبارہ ایس ایچ او کے پاس گیا جنہوں نے فوری طور پر ایف آئی آر کاٹی اور ملزم کی گرفتاری کا کہا۔ میری بیوی نے تین ایف آئی آر میرے ساتھ جا کر کٹوائیں۔
آخری ایف آئی آر کے بعد میری بیگم نے خود ان کے ساتھ مل کر مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا ، ملزمان نے میری بیگم کی بہن کے ساتھ زیادتی کی ، اور دھمکی دی کہ اگر میری بیگم مجھے چھوڑ کر نہ آئی تو وہ اس کی بہن کی ویڈیو بھی وائرل کر دیں گے۔ اس کے بعد میری بیگم ان کی باتوں میں آکر بلیک میل ہو گئی اور مجھ سے کہا کہ طلاق دے دو تاکہ میں اس کے گھر جا کر اس کی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا کر سکوں اور بالآخر اسے ماروں گی ۔
میں نے اپنی بیوی کو اعتماد میں لے کر کہا کہ میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا ۔ جس پر میری بیوی نے ملزمان سمیت اپنے کزنوں سے بھی مجھے کالیں کروانا شروع کر دیں ۔ جب اسے پتہ چلا کہ میں اسے نہیں چھوڑوں گا تو میری اپنی بیوی نے ہی میرے کھانے پینے میں چیزیں ملانا شروع کر دیں، مجھے پاگل قرار دینے لگی، میں زچ ہو گیا تو وہ خود ہی چھوڑ کر چلی گئی۔
بعد ازاں میں اپنی بیوی سے ملنے گیا تو اس نے مجھ سے ملاقات نہیں کی،جب میں نے رشتہ کروانے والے بہنوئی کو کہا تو انہوں نے کہا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔فرحان نے بتایا کہ میری بیگم ہمارا چودہ ماہ کا بچ بھی چھوڑ گئی اور جب میں نے رشتہ داروں کے ہاتھ اپنا بچہ بھجوایا تو اس نے اسے بھی لینے سے انکار کر دیا۔ فرحان کا کہنا تھا کہ میری بیگم نے اسی بلیک میلر سے شادی کر لی ہے ، اگرچہ میں نے اسے کوئی طلاق نہیں دی۔
لیکن میں نےس ناتھا کہ انہوں نے عدالت کے ذریعے کوئی معاملہ کر کے شادی کر لی ہے۔ اس بات کا علم ہونے پر میں ایف آئی آر کٹوانے گیا تو ملزمان نے مجھے وہاں پا کر مجھے خوب مارا، میں دو ہفتے تک اسپتال میں رہا جبکہ میرا 14 ماہ کا بچہ بھی میرے ساتھ ہی اسپتال میں رہا۔ فرحان نے بتایا کہ سوشل میڈیا نے میری زندگی خراب کر دی ہے جس کا اسے بے حد افسوس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں