لاہور : ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں مال و دولت بنانے والا مردہ ڈائریکٹر نیب کے شکنجے میں آ گیا ۔نیب کے چیئر مین جاوید اقبا ل کی جانب سے 2004میں ریفرنس دائر کئے گئے تھے جس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی وفاقی وزارت صحت ہیلتھ سروسز کے افیسرشیخ اختر حسین کو مردہ قرار دینے اور اپنے فرائض سے غفلت برتنے والے افراد کے خلاف انکوائری کا حکم دیے دیا گیا ۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے 5افسران نے 51ملین کی خردبرد کی تھی ۔شیخ اختر حسین نے نیب کے افسروں کے ساتھ مل کر اپنے مردہ ہونے کی فائل جمع کروا کر ملک سے فرار ہو گیا تھا ۔ذرائع کے مطابق شیخ اختر حسین نے اگست کے مہینے میں فلائٹ نمبر714اور پاسپورٹ 6894183سے ترکی سے سفر کا واپس کیا ۔تاہم اس کے خلاف بھی انکوائری عمل میں لائی جائے گی کہ ترکی کیسے روانہ ہوا ۔
میڈیا تفصیلات کے مطابق سمیع اللہ خان نے ایف آئی اے اور نیب کے بڑے افسروں کو درخواست دیتے ہوئے کہا کہ شیخ اختر حسین 1992ء میں وزارت صحت میں اسسٹنٹ کنٹرولر میں تعینات ہوئے تھے مگر نیب ریفرنس کے مطابق وہ 2004ء میں وفات پا چکے تھے ۔افیسرشیخ اختر حسین کے علاوہ چاروں افسر اپنی سزا بھگت چکے ہیں مگر فوت شدہ شیخ اختر حسین کے نام استعمال کرتے ہوئے نوکری حاصل کی اور اب اس شخص نے اپنے عہدہ کو غیر قانونی استعمال کرتے لاہور ،کراچی اور اسلام آباد میں کروڑوں روپے کی پراپرٹی بنا رکھی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں