اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے سینئر صحافی و معروف کالم نگار ہارون الرشید اپنے کالم میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے لکھا ہے کہ خطرناک حالات میں عدالتوں اور عسکری قیادت نے قابلِ فخر احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔اگرچہ ان کے لیے مشکل ہے مگر جناب عمران خان مدظلہ العالی کو بھی یہی کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ پچھتائیں گے۔ آج نہیں تو کل۔یلغار کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ لیڈر کا لہجہ مگر شائستہ رہنا چاہیے۔ کتنی ہی گزری صدیوں نے صلاح الدین ایوبی کی عظمت کے گن گائے ہیں۔ فاتح کی تلوار خوں ریز ہوتی رہی مگر زبان کبھی آلودہ نہ کی۔ جب بھی ممکن ہوا‘ معاف کر دیا۔ قائد اعظم سخت بات کہتے‘ کبھی کوئی ادنیٰ لفظ مگر نہ برتا۔ ساری قوم لسانی افلاس کا شکار ہے‘ رواجِ عام کی پیروی مگر لیڈر کو زیبا نہیں۔ کل کلاں لوگ اگر گالیاں بکنے لگیں؟ میاں محمد نواز شریف نے طلال چوہدری‘ دانیال عزیز‘ مشاہداللہ خان اور پرویز رشید رکھ چھوڑے ہیں۔ میڈیا سیل‘ دشنام طرازی میں کمال دکھاتا ہے۔ ذاتی طور پہ میاں صاحب مگر محتاط رہتے ہیں۔شریف خاندان اور زرداری گروپ کے اعصاب پر کپتان سوار ہے۔ اپنی قوم پر‘ یہ لوگ اللہ کا عذاب ہیں۔ عمران خان ان کے لیے عذاب۔ اس کے تابڑ توڑ جلسوں نے مخالفین کی سٹی گم کر دی ہے۔ پرانی قیادت سے اکثریت اکتا چکی مگر قوم کی حمایت فقط شعلہ بیانی سے حاصل نہ ہو گی۔ بتانا ہو گا کہ معیشت کی خرابی کا علاج کیسے ہو گا۔ خارجہ پالیسی کن خطوط پہ استوار ہو گی۔ بستیوں کو امن کیسے نصیب ہو گا۔شورش پسند اور ناقابلِ اعتبار’’شیر بنگال‘‘ فضل الحق کو‘ قائد اعظم نے مسترد کر دیا تھا۔ دیوتا دکھائی دیتے ابوالکلام کو ڈانٹا مگر پنجاب کے وزیر اعظم سکندر حیات‘ کشمیر کے شیخ عبداللہ اور عبدالغفار خانسے بات کی اور نہایت تحمل کے ساتھ۔ اندیشہ ہے کہ کپتان کو تین چیزوں کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایک انتقامی لہجے‘ دوسرے فردوس عاشق اعوانوں‘ مصطفی کھروں اور نذر گوندلوں کو پارٹی میں شامل کرنے اور تیسرے خوشامدیوں کو ٹکٹ دینے کی‘ اگر اس نے دیے۔بے شک مقبولیت اس نے جرأت و شجاعت سے کمائی ہے۔ ظفرمندی مشکل ہوتی ہے‘ برقرار رکھنا مگر اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ جیت کے لوگ ہار جاتے ہیں۔ شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کا انجام کیا ہوا؟ خلق کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے‘ خالق کو نہیں۔ سطحی لوگ کرشماتی لیڈروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مفادات کے لیے دانشور اور سیاسی کارکن مقبول رہنمائوں کے کارندے بنتے ہیں۔ قدرت کا ان دیکھا ہاتھ‘ آخر بروئے کار آتا اور حکم لگاتا ہے۔ آغا محمد یحییٰ خان‘ بھٹو اور مجیب کے انجام سے جنرل‘ سیاسی لیڈر اور تجزیہ کار عبرت کیوں نہیں پاتے؟لڑھکتے پتھروں کی طرح میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری زوال کی راہ پہ ہیں۔ قارون جیسے خزانوں کو کیسے وہ چھپائیں گے؟ آئین کی روح مسخ کرکے‘ نئے قوانین بنانے یا دستور کے ریشم میں ٹاٹ کے پیوند لگانے کی کوشش کی تو سپریم کورٹ سامنے کھڑی ہے۔ وہ نہیں تو عمران خان ہے۔ کبھی تو یہ لگتا ہے کہ اللہ نے اس کام کے لیے ہی اسے پیدا کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں