اسلام آباد(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ ن نے پارٹی کے اہم اجلاس کے بعد ریویو پٹیشن پرسپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کے حوالے سے اپنارد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کا یہ اجلاس عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے جاری ، ریویو پٹیشن کے تفصیلی فیصلے میں لکھے گئے انتہائی نا مناسب ریمارکس کو مسترد کرتا ہے۔بیان کے مطابق پاکستان کے مقبول ترین رہنما ،سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد اور تین بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والی قومی شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ
کسی بھی سطح کی عدالتی زبان کے معیار پرپورا نہیں اترتا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین اور قانونی ماہرین کی رائے کے مطابق بینچ نے اس فیصلے کے ذریعے نہ صرف ذیلی عدالتوں پر اثر اندازہونے کی کوشش کی ہے بلکہ اپیل کا فیصلہ بھی ابھی سے سنا دیاہے۔ نواز شریف کے بارے میں توہین اور تضخیک کے الفاظ اور جملے دنیا کی کسی بھی عدالت کیلئے باعث فخر نہیں ہو سکتے۔ یہ فیصلہ اول سے آخر تک بغض ، عناد، غصہ اور اشتعال کی نہایت افسوس ناک مثال ہے۔ مسلم لیگ ن نے عدالتی فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا ہے کہ شاعری کا سہارا لیتے ہوئے ’’راہبری‘‘ کا سوال اٹھایا گیا ہے ۔ قومی جانتی ہے کہ راہبری کرنے والوں نے ہی پاکستان بنایا اور اس کیلئے قربانیاں بھی دیں۔ انہوں نے ہی اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایا انہوں نے جیلیں کاٹیں وہ پھانسی چڑھے وہ جلا وطن ہوئے وہ نا اہل قرار دیئے گئے ۔ لہذا سوال ’’راہبری‘‘ کا نہیں ’’منصفی‘‘ کا ہے ۔پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ستر برس کے دوران قافلے کیوں لٹتے رہے اور کن راہزنوں نے لوٹے؟ قافلے اس لئے لٹے کہ راہزنوں کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ۔ راہزنوں سے وفاداری کے حلف اٹھائے گئے راہزنوں کی راہزنی کو جواز فراہم کرنے کیلئے نظریہ ضرورت ایجاد کئے گئے راہزنوں کو آئین سے کھیلنے کے فرمان جاری کئے گئے ۔بیان کے مطابق ستر سال پر پھیلا ہوا سوال’’راہبری‘‘ کا نہیں ’’منصفی‘‘ کا ہے ۔ راہبر تو آج بھی سزا پا رہے ہیں ۔ پیشیاں بھگت رہے ہیں بتایا جائے کہ ’’راہزن‘‘ کہاں ہے ؟ مسلم لیگ ن نے بیان میں کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان نے کسی تذبذب کے بغیرعدالتی فیصلوں پر عمل کیا لیکن ان کے بارے میں سیاسی حریفوں کے جلسوں جیسی زبان برداشت نہیں کی جا سکتی ۔ عدلیہ جیسے مقدس ادارے کیلئے نواز شریف کی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے ۔مسلم لیگ (ن) آئندہ بھی ایک آزاد اورآئین کے تحفظ کی علم بردار عدلیہ کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔لیکن مقدس عدالتی منصب کو بغض و عناد کے تحت سیاسی شخصیات بلکہ کسی بھی پاکستانی کی کردار کشی کیلئے استعمال کرنے کو’’عدلیہ کہ آزادی‘‘ کے لبادے میں نہیں چھپایا جاسکتا۔ پاکستان کی سر سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بینچ کے پیش کردہ شعر میں ایک لفظی تبدیلی صورت حال کی صحیح ترجمانی کرے گی۔ تو ادھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری’’منصفی‘‘ کا سوال ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں