قائد اعظم نے دوسری شادی اپنی پسند سے 1916میں کی تھی۔ ان کی دوسری شادی بمبئی کی سب سے خوبصورت لڑکی سے ہوئی تھی۔ ان دونوں نے خاموشی سے نکاح کیا تھا کیونکہ رتی جناح کا باپ بہت بڑا ہندوپارسی تھا اور ان دونوں کی شادی کے سخت خلاف تھا۔ رتی جناح اس وقت صرف اٹھاراں سال کی تھیں اور قائد اعظم کی عمر 39 سال تھی۔ دونوں کی عمروں میں اتنا فرق ہونے کے باوجود ان کی محبت مثالی تھی۔ ان کی ذہنی ہم آہنگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔شادی سے پہلے دو سال تک دونوں کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی۔ محمد علی جناح بہت کم گو تھے اور انتہائی ریزروڈ آدمی تھے۔ آپ اپنے راز کسی سے شےئر نہیں کرتے تھے۔

سب ے بڑی بات تو یہ تھی کہ رتی جناح ہندو تھیں اور بہت بڑے پارسی کی بیٹی تھیں۔ ان کا کسی مسلمان رہنما سے شادی کرنا کتنا کٹھن امر تھا۔ رتی جناح بہت زیادہ خوبصورت تھیں۔ قائد اعظم ان کے حسن پر فدا تھے اوررتی آپ کی شخصیت کی دلدادہ تھیں۔ رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپےئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔ آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔ محمد علی جناح اور رتی کی ازدواجی زندگی ناکام ہونے کے بعد بھی آپ دونوں ایک دوسرے سے شدید محبت رکھتے تھے اور دونوں نے حد درجہ کوشش کی کہ اپنی ذاتی زندگی کو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے متعلق کبھی کوئی بری بات نہیں بولی کیونکہ وہ ایک دوسرے کا لحا ظ کرتے تھے۔ محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی تھی ۔ جب ان کی بیٹی جوان ہو گئی تو اس نے قائد اعظم کی مرضی کے خلاف ایک ہندو پارسی سے شادی رچا لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں