جب مہنگائی بہت زیادہ ہوتو گھر کا گزارا بڑی مشکل سے ہوتا ہے یہی حال کچھ فرید کے ساتھ تھا۔ وہ دن میں کالج میں پڑھتا تھا اور شام میں بچوں کے کھلونے فروخت کرتا ۔ اس طرح وہ اپنے بوڑھے ماں، باپ کا پیٹ پال رہا تھا۔ فرید ایک دن بازار میں کھلونے بیچ رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک جگہ انعامی رقم کے ٹکٹ مل رہے ہیں فرید نے بھی ایک سو روپے والا ٹکٹ خرید لیا۔ دن گزرتے گئے اور فرید بچوں کے کھلونے فروخت کرکے اپنی تعلیم اور گھر کا خرچ پورا کرتا رہا ایک دن اخبار میں ان ٹکٹوں کے نمبر شائع ہوئے جو انعامی رقم کے حوالے سے فرید نے خریدا تھا۔ اس نے دھڑکتے دل سے پہلے اپنے ٹکٹ کے نمبر کو دیکھا اور پھر اخبار میں آنے والے نمبروں سے ملانے لگا۔” وہ مارا․․․․․! فرید کوشی سے چلایا۔ پہلا انعامی رقم کا نمبر اس کے خریدے ہوئے ٹکٹ سے مل گیا تھا۔ اب تو فرید کے وارے نیارے ہوگئے۔ پورے محلے میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سب ہی محلے والے فرید کو انعام نکلنے پر مبارک باد دے رہے تھے۔ واقعی سچ ہے کہ ”خدا دیتا ہے تو چھپرّ پھاڑ کردیتا ہے“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں