اسرار کی وضاحت پر رشک کرنے والی ذات کب یہ موقع دیتی ہے کہ میں وہ بات کہوں جس کاکہناضروری ہے۔ فرض کرو کہ ایسی کچھ بات ہو بھی رہی ہو جیسے سمندر حق جھاگ لے آتا ہے اور راز افشاء کرنے کی بندش ہوتی ہے یا قلب کبھی جذر کی کیفیت میں کھنچ جاتا ہے تو خاموش ہوجاتا ہے۔ پھر جذر کے بعد مدکی کیفیت ہوتی ہے اور پھر قلب ابھر کر اوپر آجاتا ہے۔ پس اے عزیز! جو صورت سے صوفی نظر آئے اس کی بابت خیال مت کرو کیونکہ تم بچوں کی طرح مادی جسم کی مشغولیت میں اخروٹ اور منقوں سے دلچسپی لیتے ہو۔ ہمارا جسم اخروٹ اور منقی ہے۔ اگر تومرد ہے تو ان دونوں چیزوں سے گزرجا اور جمالِ نور حق کا مشاہدہ کر اگر تو خود نہ گزرسکے تو اس کی طلب کر تیری طلب کی وجہ سے اللہ عزوجل تجھ پر اپنا کرم فرمادے گا اور تو آسمان کے طبقات سے گزر جائے گا۔
مقصود بیان: مولانا محمد جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل سے طلب کرو وہ تم پر اپنا کرم فرمادے گا اور اگر تمہاری طلب واقع سچی ہوئی تو یقینا تمہیں تمہاری مراد مل جائے گی۔حضرت ابوالحسن نوری رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اللہ عزوجل آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب میں غسل کرتا ہوں تو وہ میرے کپڑوں کی نگرانی کرتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ایک دن میں حمام میں تھا کہ کوئی شخص میرے کپڑے اٹھا کر چل دیا۔ میں نے اللہ عزوجل سے کپڑے طلب کئے تو وہ شخص انہی قدموں سے واپس لوٹ آیا اور مجھے کپڑے واپس کرتے ہوئے معافی کا خواستگار ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں