اگر فیل ہونے سے کسی کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ کیا جا سکتا تو پھر تو ابراہام لنکن کو اس دنیا کا سب سے بڑا فیلیر ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہ ایک بہت غریب خاندان میں پیدا ہوا تھا، وہ آٹھ بار الیکشن ہارا تھا، دو بار اس کا کام کاروبار با لکل ٹھپ ہو گیا تھا اور ایک بار اس نے چھے ماہ کا شدید پاگل پن بھی ظاہر کیا تھا۔ آج اس کی کہا وتیں دنیا بھر کے بڑے سے بڑے سیاستدان، دانشور پڑھتے ہیں، ایسا کیسے ممکن ہوا؟ ابراہام نے کبھی ہار نہیں مانی تھی اور وہ ہار مان کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا،اس نے ہر ہار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور امریکہ کے سب سے مشہور صدروں میں سے ایک بنا۔۱۸۱۶ اس کو اپنا گھر بار گھر بار بچانے کے لیے جاب کرنی پڑی۱۸۱۸ اس کی ماں کی وفات ہو گئی۱۸۳۱ اپنا کاروبار شروع کیا اور سب کچھ لٹا بیٹھا۱۸۳۲ وہ سٹیٹ لیجسلیچر میں ہار گیا ۱۸۳۲ اپنی جاب بھی گنوا بیٹھا ، لاء سکول جانے کی کوشش بھی ناکام رہیکانگریس کے الیکشن میں ناکامی۱۸۳۴ وہ سٹیٹ لیجسلیچر جیت گیا تھا۱۸۳۵ اس کی منگیتر کی موت واقعہ ہو گئی اور وہ بہت دلبرداشتہ ہوا۱۸۴۳ ۱۸۴۶ اس بار کانگریس کے الیکشن جیت گیا اور واشنگٹن جا کر اپنی ڈیوٹی نبھائی۱۸۴۸ کانگریس کے ری الیکشن لڑے اور ہار گیا ۱۸۴۹ اپنی سٹیٹ کا لینڈ آفیسر بننے کی کوشش کی اور ناکام ہوا۱۸۵۴ یو ایس سینٹ کے لیے لڑا اور ناکام ہوا۱۸۵۶ سو سے کم ووٹ ملنے کی باعث اپنی پارٹی کا وائس صدر نہ بن سکا۱۸۶۰ امریکہ کا الیکٹڈ صدر منتخب ہوا.لوہا جب بار بار آگ کی تپش سے گزرتا ہے تو پھر وہ سونا بنتا ہے، اسے کسی طرح بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،لیکن اس کے لیے پے در پے ضربیں کھانی پڑتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں