ایک روسی لڑکے کو یقین ہے کہ اس کی پچھلی زندگی مریخ سیارے پر گزری ہے اوراس کےوالدین کو بھی اس کی باتوں پر یقین ہے۔
20 سالہ بورسکا کیپریانوچ کے اپنی مریخ پر گزری سابقہ زندگی کے انکشافات جاری ہیں۔2008 میں بورسکا پہلی بار مین سٹریم میڈیا اور سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کی نظر میں آیا تھا۔2008 میں اس پر ایک ڈاکیومنٹری Boriska: Indigo Boy from Mars بھی بنائی گئی تھی۔

اپنی ابتدائی زندگی میں ہی بورسکا نے ماہرین کو مریخ پر گزاری اپنی سابقہ زندگی کے بارے میں بتانا شروع کر دیا تھا۔بورس کویقین ہے کہ وہ ایک اجنبی تہذیب کے درمیان رہتا تھا، جو جنگوں اور پھر ایٹمی جنگوں کے باعث تباہ ہو گئی۔بورس کا کہنا ہے کہ مریخی لوگ 7 فٹ لمبے ہوتے ہیں اورسانس لینے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال کرتے ہیں۔
بورس کا دعویٰ ہے کہ وہ مریخی پائلٹ ہے، جس نے 1996 میں زمین کا سفر کیا تھااور یہاں ایک بار پھر پیدا ہوگیا۔

بورس کا کہنا ہے کہ انسانوں کو ابھی بہت کچھ جاننا ہے اور اس علم کی چابی مصر میں گیزہ کے ابوالہول کے مجسمے میں ہے۔بورس کا کہنا ہے کہ جب ابوالہول کھل گیا تو انسانی زندگی بدل جائے گی اور اس کے کھلنے کا میکنزم اس کے کانوں کے پیچھے کسی جگہ ہے۔
بورس کے دعوؤں پر سازشی نظریات رکھنے والی ویب سائٹس پر نہ ختم ہونے والے مباحثے ہو رہے ہیں۔ بورس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 18 ماہ کی عمر میں ہی اس نے لکھنا، پڑھنا اور بولنا سیکھ لیا تھا۔ 7 سال کی عمر میں بورس نے پہلی بار مریخ پر اپنی سابقہ زندگی کے بارے میں کہانی سنائی تھی، جس کے بعد وہ روس میں بہت مقبول ہوگیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں