مصر : ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اُسے شادی کے بعد سکون کی زندگی ملے اور اسے زیادہ کام نہ کرنا پڑے لیکن مصر کی ایک خاتون نے سکون کی زندگی ہوتے ہوئے بھی اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق 28 سالہ مصری خاتون ثمر کا خاوند ایک کپڑے کی دکان کا مالک ہے جو اپنی بیوی یعنی ثمر کو گھر کا کوئی کام کاج نہیں کرنے دیتا۔
جس کے باعث شادی کے محض دو ہفتوں کے بعد ہی ثمر نے طلاق کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ العریبیہ سے بات کرتے ہوئے ثمر نے بتایا کہ میرے لیے گھر پر کرنے کے لیے کوئی کام نہیں ہوتا کیونکہ میرے خاوند ہی تمام کام سنبھال لیتے ہیں۔ وہ صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ کھانا بناتے اور کپڑے تک دھوتے ہیں۔ ثمر نے خاوند سے علیحدگی کے لیے قاہرہ کی ایک فیملی کورٹ میں درخواست دائر کی۔
درخواست میں ثمر نے موقف اختیار کیا کہ مجھے کوئی کام کرنے نہیں دیا جاتا اور ایسے ماحول میں مجھے لگتا ہے کہ میں گھر پر نہیں بلکہ کسی ہوٹل میں ہوں، میرا خاوند گھر کی عورت کا کردار ادا کر رہا ہے اور میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔ ثمر کا کہنا تھا کہ میرے خاوند کھانا بناتے ہیں اور وہ کپڑے بھی اسی لیے دھوتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ رنگوں کے اعتبار سے کس طرح کپڑوں کی دھُلائی کرنی ہے۔
جس کے بعد وہ کپڑوں کو استری کرتے، صفائی کرتے اور فریج میں موجود چیزوں کو بھی ترتیب دیتے ہیں، جب انہیں لگے کہ وہ اگلے دن کھانا بنانے کے لیے وقت نہیں نکال سکیں گے تو وہ آدھی رات کو بھی کھانا تیار کر لیتے ہیں۔ ثمر کا کہنا ہے کہ میرا سارا وقت ان کو دیکھنے میں ہی گزرتا ہے اور وہ گھر کے کام کاج کرتے ہوئے خاصے خوش نظر آتے ہیں۔ گھر پر کام کاج کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی دکان میں کافی ملازم ہیں جس کی وجہ سے وہ گھر کو وقت دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں