اسلام آباد (آئی ا ین پی) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب کی طرف سے دائر کردہ تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے لندن فلیٹس‘ فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل ریفرنسز میں ان کی موجودگی میں دوبارہ فرد جرم عائد کردی‘ فاضل جج محمد بشیر نے فرد جرم کے نکات پڑھ کر سنائے‘ تو سابق وزیراعظم نواز شریف نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فیئر ٹرائل میرا بنیادی حق ہےاس سے مجھے محروم رکھا گیا‘ جس پر فاضل جج نے ریمارکس د یئے کہ آرٹیکل 10 اے فیئر ٹرائل پر
کہتا ہے کہ کیسز کو جلد نمٹایا جائے جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس طرح تو ہر ریفرنس کے ٹرائل کے لئے ڈیڑھ مہینہ ملے گا جب کہ سپریم کورٹ نے 6 ماہ میں ریفرنسز پر فیصلے کا حکم دیا ہے‘ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ ایمرجنسی کی صورت میں ان کے موکل کی جگہ ان کے نمائندے کو پیش ہونے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے کہا کہ نواز شریف کی جگہ نمائندے کی پیشی سے متعلق تحریری درخواست دی جائے‘عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں عائد فرد جرم میں ترمیم سے متعلق گزشتہ روز جمع کرائی جانے والی درخواست سماعت کے لئے جزوی طور پر منظور کرلی‘عدالت نے کیس کی سماعت 15نومبر تک ملتوی کردی۔ بدھ کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف‘ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت ہوئی‘ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ عدالت نے تینوں نیب ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم کی ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست ایک بار پھر مسترد کردیجس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف پر نیب کے تین ریفرنسز میں دوبارہ فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ عدالت نے سابق وزیراعظم کو روسٹرم پر بلایا فاضل جج محمد بشیر نے نواز شریف سے سوال کیا کہ کیا آپ کو چارج شیٹ کی کاپیاں مل گئی ہیں جس پر نواز شریف نے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا اور چارج شیٹ پر دستخط کیے۔ عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کی موجودگی میں ان پر ایک مرتبہ پھرتینوں ریفرنسز لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں فرد جرم کے نکات پڑھ کر سنائے۔سابق وزیراعظم نے تینوں ریفرنسز میں صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فیئر ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا اور میرے بنیادی حقوق سے انکار کیا گیا۔ جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 10 اے فیئر ٹرائل پر کہتا ہے کہ کیسز کو جلد نمٹایا جائے جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس طرح تو ہر ریفرنسکے ٹرائل کے لئے ڈیڑھ مہینہ ملے گا جب کہ سپریم کورٹ نے 6 ماہ میں ریفرنسز پر فیصلے کا حکم دیا ہے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں پرسپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے،تفصیلی فیصلے میں کیس کا ٹرائل 6ماہ میں مکمل کرنے کے حوالے سے بھی تحریر ہے، ضرورت پڑنے پر 6ماہ کے وقت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ایمرجنسی کی صورت میں نواز شریف نہ پیش ہوسکیںتو ان کے نمائندے کو پیش ہونے کی اجازت دی جائے‘ایمرجنسی کی صورت میں نواز شریف کے پیش نہ ہونے پر ظافر خان پیش ہوں گے جس پر فاضل جج نے کہا کہ اس حوالے سے آپ تحریری طور پر درخواست دے دیں۔قبل زیں نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان کی جانب سے پیش ہونے والے نمائندے ظافر خان کے ذریعے سابق وزیراعظم پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سےایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں عائد فرد جرم میں ترمیم سے متعلق گزشتہ روز جمع کرائی جانے والی درخواست عدالت نے جزوی طور پر منظور کرلی۔ عدالت نے کیلبری فونٹ کی جعلی دستاویز سے متعلق سیکشن 3 اے کو فرد جرم سے نکال دیا جب کہ عدالت نے قرار دیا کہ کیلبری فونٹ کی جعلی دستاویز سے متعلق پیرا گراف فرد جرم کے متن کا حصہ رہے گا۔اس موقع پر پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ کیلبری فونٹ 31 جنوری 2007 سےقبل کمرشل طور پر دستیاب نہیں تھا۔وکیل درخواست گزار نے دلائل میں کہا کہ اس مرحلے پر کیلبری فونٹ والا الزام فرد جرم کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا، کیلبری فونٹ والی دستاویز جعلی ثابت ہونے پر قانونی کارروائی کا اختیار ہے۔فاضل جج نے کہا کہ فی الحال کیلبری فونٹ کو فرد جرم کا حصہ نہیں بنایا جارہا تاہم متن شامل رہے گا اور عدالت میں بحث کے بعد دیکھیں گے کیا کارروائی کرنی ہے۔عدالت نے نواز شریف پر باضابطہ فرد جرم کیکارروائی مکمل کرنے کے بعد سماعت 15 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لئے مری سے پنجاب ہاؤس پہنچے تھے جہاں سے وہ پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ احتساب عدالت کے لئے روانہ ہوئے جب کہ اس موقع پر مریم نواز بھی ان کے ہمراہ تھیں۔سابق وزیراعظم کی ْامد کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے ۔ پولیس، ایف سی اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کے ساتھ خواتین اہلکاروں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں