اسلام آباد (آئی این پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے آڈٹ حکام کی جانب سے نیو بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کہنے پر جھڑک دیا،خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت نے ایئرپورٹ کا جو نام دیا ہے وہی بتایا جائے،آڈٹ اور ایوی ایشن کی وزارت اس بات کا خیال رکھے۔منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام کی جانب سے نیو بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حوالے سے جب آڈٹ اعتراض پیش کیا جا رہا تھا تو اس وقت چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے آڈٹ حکام کو ٹوک دیا اور کہا کہ خیال کریں یہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ نہیں بلکہ نیو بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہے، آڈٹ حکام اور وزارت ایوی ایشن آئندہ اس بات کا خیال رکھے۔حکومت نے جو نام ایئرپورٹ کو دیا ہے وہی نام لکھا اور پڑھا جائے۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیو بینظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ میں اربوں روپے کی بے ظابطگیوں کا نوٹس لے لیا ، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ کروڑوں روپے کا ٹھیکہ خلاف ضابطہ دیا گیا اور اس میں معیاری طریقے کو نظر انداز کیا گیا،نیو بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں ڈیم بنانے کے منصوبے کا ٹھیکہ نااہل ٹھیکیدار کو دیا گیا کمیٹی نے اس پر کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا اور اس پر انکوائری کی جائے، ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کو سزا دی جائے، اگر کوئی ڈیم بنانے کے قابل نہیں تھے ان کو ٹھیکہ دیا گیا ہے ۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ جو لوگ ملوث ہیں ان کو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور پی ای سی سے درخواست کریں گے کہ ان کو پورے پاکستان میں بلیک لسٹ کیا جائے گا، اگر کمپنی یہ سمجھتی ہے کہ محکمانہ کمیٹی پر اعتماد نہیں ہے، تو کیس ایف آئی اے کو بھیجنے میں مجھے ہچکچاہٹ نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسے ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا گیا جس کی فیلڈ ہی نہیں تھی، صرف تحقیقات ہی ہو رہی ہیں سزا دی جائے، اب تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں اس میں کسی کو سزا نہیں دی گئی، تین تحقیقاتی رپورٹیں بن چکی ہیں اور چار رپورٹیں آنے والی ہیں،35ارب کا منصوبہ 100ارب سے زائد تک ہو گیا۔کمیٹی نے سول ایوی ایشن کے پرفارمنس آڈٹ کی ہدایت کر دی۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کرتے وہئے فرنیچر خریدنے کی مد میں اربوں کے ٹھیکے خلاف ضابطہ دیئے،ٹھیکہ جس کمپنی کو دیا گیا وہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ نہیں تھی۔منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت ایوی ایشن ڈویژن کے مالی سال2016-17کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ دیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کرتے وہئے فرنیچر خریدنے کی مد میں اربوں کے ٹھیکے خلاف ضابطہ دیئے،ٹھیکہ جس کمپنی کو دیا گیا وہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ نہیں تھی، سیکرٹری ایوی ایشن عرفان الٰہی نے جواب دیا کہ مقابلے میں تین کمپنیاں تھیں اور تین جوائنٹ وینچر کمپنیاں تھیں جس کمپنی نے فرنیچر سپلائی کیلئے ٹینڈر جمع کرایا اس کے ساتھ مقامی کمپنی ڈسکان پارٹنر تھی۔ کمپنی چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا کہ جو بھی باہر کی کمپنی ہو گی اسے رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ جے وی کو بھی پی ای سی سے رجسٹرڈ ہوناچاہیے اور ٹینڈر میں مقامی کمپنی کا بھی لکھا گیا تھا۔ سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن نے بتایا کہ پی ای سی صرف متعلقہ منصوبے کیلئے کمپنی کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، کمیٹی نے کہا کہ اس سے نقصان نہیں ہوا لیکن تمام محکموں کو وارننگ دے دیں کہ وہ جوائنٹ وینچر کو پہلے رجسٹرڈ کریں۔ خورشیدشاہ نے کہا کہ پی اے سی کی جانب سے اعتراض بھیجیں اور پندرہ دن میں کمپنی کو رجسٹر کریں،آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ کروڑوں روپے کا ٹھیکہ خلاف ضابطہ دیا گیا اور اس میں معیاری طریقے کو نظر انداز کیا گیا،نیو بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں ڈیم بنانے کے منصوبے کا ٹھیکہ نااہل ٹھیکیدار کو دیا گیا کمیٹی نے اس پر کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا اور اس پر انکوائری کی جائے، ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کو سزا دی جائے، اگر کوئی ڈیم بنانے کے قابل نہیں تھے ان کو ٹھیکہ دیا گیا ہے ۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ جو لوگ ملوث ہیں ان کو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور پی ای سی سے درخواست کریں گے کہ ان کو پورے پاکستان میں بلیک لسٹ کیا جائے گا، اگر کمپنی یہ سمجھتی ہے کہ محکمانہ کمیٹی پر اعتماد نہیں ہے، تو کیس ایف آئی اے کو بھیجنے میں مجھے ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسے ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا گیا جس کی فیلڈ ہی نہیں تھی۔ سیکرٹری نے کہا کہ آپ سیکرٹری ہیں آپ کی ذمہ داری ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ 66کروڑ روپے کے منصوبہ میں بے ضابطگی ہوئی ہے اور سیکرٹری کو علم ہی نہیں ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ صرف تحقیقات ہی ہو رہی ہیں سزا دی جائے، اب تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں اس میں کسی کو سزا نہیں دی گئی، تین تحقیقاتی رپورٹیں بن چکی ہیں اور چار رپورٹیں آنے والی ہیں،35ارب کا منصوبہ 100ارب سے زائد تک ہو گیا، ایم ڈی سول ایوی ایشن نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس میں نا اہل ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا گیا۔ شفقت محمود نے کہا کہ اربوں روپے کھانے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا اور جیب کتروں کو دس سال جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ایم ڈی سول ایوی ایشن نے کہا کہ منصوبہ بندی میں غلطی تھی جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس نے منصوبہ بندی کی تھی، ایم ڈی نے جواب دیا کہ اس کا کنسلٹنٹ بھاگ گیا، جس پر کمیٹی نے کہا کہ ذمہ دار کون ہیں ان کا تعین کیا جائے، ایم ڈی نے جواب دیا کہ گیامہ سال پرانا منصوبہ ہے اور میں کاغذات دیکھ کر بتاؤں گا۔کمیٹی نے کہا کہ آپ کو دو سال ہو گئے، ایم ڈی بنے اور یہ چیزیں تو فنگر ٹپس پر یاد ہونی چاہیے، کمیٹی رکن غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ کمیٹی کو وہاں لے جائیں، جس پر کمیٹی رکن میں المنان نے کہا کہ وہاں جانے کا راستہ ہی نہیں ہے وہ کون سا پل صراط ہے جس کے ذریعے ہم وہاں جائیں گے، ان کے جانے کا راستہ ہے مگر ہمارے جانے کا راستہ نہیں ہے، کمیٹی نے 15تاریخ کو ذیلی کمیٹی کو وہاں کے دورے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے ڈیم کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی اہلیت کو بھی چیلنج کر دیا، آپ کا کوئی تجربہ نہیں ہے تو کس نے لگایا منصوبے کا ڈائریکٹر؟۔ کمیٹی نے ڈیم سے متعلق تمام معلومات وزارت سے طلب کرلیں، تین ماہ میں تمام تفصیلات پیش کی جائیں۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ پی آئی اے کا ذمہ سول ایوی ایشن کے 318ارب روپے سے زائد کے بقایا جات ہیں، جس پر سیکرٹری ایوی ایشن نے کہا کہ اب یہ واجبات 40ارب تک پہنچ گئے ہیں۔ کمیٹی نے اس معاملے کو نمٹا دیا۔آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے پاس زمین موجود ہے مگر اس کو لیز پر نہیں دیا جا رہا ہے، جس سے تین ارب روپے سے زائد کانقصان ہوا ،وزارت نے ڈی اے سی میں بتایا تھا کہ پندرہ سو ایکڑ اراضی سکوک بانڈز کے عوض گروی رکھا گیا، آڈٹ نے بتایا کہ سب سے پہلے سکوک بانڈ کے عوض 2010میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ گروی رکھا گیا تھا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سرکاری اور غیر سرکاری محکموں سے اربوں روپے وصول کرنے ہیںجو ابھی تک وصول نہیں کئے گئے۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ اے ایس ایف اور اینٹی نارکوٹکس کو کرایہ معاف کیا جا رہا ہے،618ملین کے کورٹ کیس ہیں، اور دیگر اداروں سے وصولی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ 26کروڑ روپے سے زائد کا آمدنی نقصان سول ایوی ایشن کو ہوا، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ منیجر نے لیز معاہدہ سکائی رومز کمپنی سے کیا اور لیز کی معیاد 30سال کی تھی اور کمپنی نے آگے لیز حبیب بینک کو دے دی۔ کمیٹی نے قواعد کی خلاف ورزی پر چپ رہتے ہوئے آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔ کمیٹی نے سول ایوی ایشن کے پرفارمنس آڈٹ کی ہدایت کر دی۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے پی آئی سی پوچھا کہ بوئنگ 377اور دیگر 4جہاز بھی انڈر گراؤنڈ کر دیئے گئے ہیں اور پی آئی اے باہر سے جہاز لیز پر لے ہا ہے اور پی آئی اے کا انجینئر نگ محکمہ دنیا کا مشہور انجینئرنگ کا محکمہ ہے۔ پی آئی اے حکام نے کہا کہ بوئنگ 377چھ ماہ سے انڈر گراؤنڈ ہے اور اس حوالے سے پارٹس منگوانے کی کوشش کی جا رہی ہے،320Aجہازوں کا انجن نومبر کے آخر میں اور دوسرا پانچ دسمبر کو آئے گا، سی ای او پی آئی اے نے بتایا کہ پہلے امریکہ جانے والی فلائٹ منافع بخش تھی، مگر اب نقصان ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن بند کر دیاہے۔ چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ 21ویں صدی میں بھی ہم مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ نیویارک سے بند ہونے والی فلائٹ کہاں پر چلائی جاتی ہے،777میں 440سیٹیں ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ سعودی عرب مشہد اور نجف کیلئے زیارات پر جانے والوں کو فلائٹ کی سہولت دی جائے۔ اعظم سواتی نے کہا کہ پانچ ہزار ایئر لائنوں کی رینکنگ میں پی آئی اے کا نام تک نہیں ہے، جس پر سی ای او نے جواب دیا کہ ہم تھری سٹار ایئرلائن ہیں۔اگلے اجلاس میں ایوی ایشن ڈویژن پورا چارٹ کمیٹی میں پیش کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں