اوتھل (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت غلام اکبر لاسی کراچی میں طویل علالت کے بعد وفات پاگئے۔ مرحوم محترمہ بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں وزیر مملکت رہے۔ مرحوم نے اپنے مختصر دور میں لسبیلہ اور گوادر کے سینکڑوں نوجوانوں کو بیرون ملک اور اندرون ملک روزگار فراہم کیا اور کافی ترقیاتی کام کرائے۔ مرحوم نے پارٹی کے لئے قربانیاں بھی دیں لیکن وہ پارٹی کی موجودہ قیادت سے شاکی نظر آتے تھے۔ان کے انتقال پر لسبیلہ میں صف ماتم بچھ گیا اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت غلام اکبر لاسی طویل علالت کے بعد چل بسے۔ مرحوم بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے تاریخی شہر بیلہ کے مضافات میں بریہ گوٹھ میں پیدا ہوئے۔ ا بتدائی تعلیم بیلہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد ان کے والد تجارت کی غرض سے کراچی منتقل ہوئے اور اس طرح غلام اکبر لاسی نے میٹرک ایس ایم سیکنڈری اسکول لیاری کراچی سے کیا اور کراچی یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ غلام اکبر لاسی نے 1988ء میں پہلی بار عملی سیاست میں حصہ لیا اور 16 نومبر 1988ء کو ہونے والے عام انتخابات میں سابق وزیراعلیٰ جام یوسف کے تعاون سے الیکشن میں حلقہ NA-270 لسبیلہ کم گوادر سے حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ جام یوسف مرحوم سے اختلافات کے سبب وہ پاکستان پپیلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں محنت وافرادی قوت وسمندر پار پاکستانیز کی وزارت دی لیکن یہ وزارت زیادہ دن نہ چل سکی۔ 1990ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58-2B کے تحت کرپشن کے الزام میں حکومت تحلیل کردی جبکہ غلام اکبر لاسی نے 1993ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 270 لسبیلہ کم گوادر سے حصہ لیااور تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی کی نشست پر جام آف لس بیلہ جام یوسف کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک بار پھر انہیں وزیر مملکت برائے محنت وافرادی قوت وسمندر پار پاکستانیز بنایا۔ غلام اکبر لاسی نے اپنے دونوں ادوار میں کواریا اور دیگر بیرون ملک اور اندرون ملک سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا اور کافی ترقیاتی کام کرائے۔ اکبر لاسی 26 جنوری 1994ء تا 5 نومبر 1996ء تک وزیر مملکت رہے۔ دوسری بار اس وقت کے صدر فاروق خان لغاری نے اختلافات کی بناء پر کرپشن کا الزام لگا کر دوسری بار اپنی ہی حکومت تحلیل کردی۔ غلام اکبر لاسی کو گرفتار کرکے پہلے سینٹرل جیل بیلہ بعد ازاں سکھر سینٹرل جیل میں قید کردیا گیا۔ رہائی کے بعد ان کے خاندان نے کینیڈا میں سیاسی پناہ حاصل کی۔ غلام اکبر لاسی نے پارٹی کے لئے قید وبند کی صعوبت ومشکلات برداشت کیں اور ان پر مقدمات بنا کر نااہل قرار دیا گیا جس کے سبب وہ 1997 اور 2008ء کا الیکشن نہ لڑسکے۔ 2013ء میں جام یوسف کی وفات پر ان کے بیٹے جام کمال خان سے حلقہ NA-270ء پر مقابلہ کیا اور 36 ہزار سے زائد ووٹ لے کر بھی الیکشن ہار گئے۔ وہ اس شکست سے کافی مایوس ہوگئے جبکہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود قیادت نے انہیں نظر انداز کیا جس سے وہ کافی دلبرداشتہ تھے۔ اکبر لاسی کو لس بیلہ کے عوام نے قائد لس بیلہ کا خطاب دیا۔ غلام اکبر لاسی ایک غریب پرور شخص اور مخلص سیاست دان تھے۔ ان کے مختصر دور وزارت میں عوامی خدمات کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں