اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نظرثانی کی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کا23 صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ پاناما فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں،ٹرائل کورٹ ضعیف شواہد کورد کرنے،قانون کےمطابق جائزہ لینے اور فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی اپیلوں کے23 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار کا 184/3 کے تحت شہادت بغیر نااہل قرار نہ دینے کا موقف درست نہیں۔ پاناما فیصلے میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں ہوئی جس پرنظر ثانی کی جائے۔ عدالت نے فیصلہ میں قرار دیا کہ نوازشریف کی نااہلی سےمتعلق حقائق غیرمتنازع تھے۔پاناما فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں۔احتساب عدالت شواہد کی نوعیت پر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ ٹرائل کورٹ ضعیف شواہدکوردکرنےکافیصلہ کرنےکی مجازہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ 6ماہ میں ٹرائل کی ہدایت ٹرائل کورٹ کومتاثرنہیں کرن بلکہ جلد مکمل کرنے کیلئے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں