ممبئی : بھارت میں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ دقیانوسی سوچ کے باعث بیٹی کی پیدائش کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ، ابھی تک کچھ لوگ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بیٹے کی پیدائش کی خواہش کرتے ہیں اور اگر بیٹی ہو جائے تو قصوروار ماں کو ٹھہرایا جاتا ہے جس کے بعد ساری عمر ماں بیٹی کو خاندان بھر کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔
لیکن حال ہی میں بھارتی ڈاکٹر نے ایک ایسی لڑکی کی کہانی سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر پوسٹ کی جسے پڑھ کر ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہو جائے گا کہ ”بیٹیاں بے کار نہیں ہوتیں”۔ اپنی فیس بُک پوسٹ میں ڈاکٹر نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیاں بے کار ہوتی ہیں میں ان کو بتا دوں کہ میں ایک ایسی لڑکی کو جانتا ہوں جسے میں ذاتی طور پر تو اتنا نہیں جانتا لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ وہ اصل ہیرو ہے۔
جس نے اپنے والد کی جان بچانے کے لیے اپنا جگر ٹرانسپلانٹ کیا۔ اپنی پوسٹ میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسی بیٹیوں پر فخر ہے ، اور ایسی لڑکیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پوجا بیجرنا اللہ تمہیں بہت خوش رکھے۔ یہ کہانی سوشل میڈیا پر آتے ہی وائرل ہو گئی۔ باپ کی زندگی بچانے کے لیے جگر ٹرانسپلانٹ کرنے والی پوجا کی سوشل میڈیا صارفین نے خوب حوصلہ افزائی کی اور بیٹیوں کو بے کار سمجھنے والوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں