اسلام آباد: ایف بی آر نے پیراڈائز پیپرز میں پاکستانی شہریوں کی آف شور کمپنیاں ظاہر ہونے پر انہیں نوٹس بھیجنے کی تیاری کرلی ہے۔ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے پر ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں انٹیلی جنس اور تفتیشی ونگ کو ہدایت کی کہ جس طرح پاناما پیپرز کی تحقیقات کی گئی تھی اسی طرح حالیہ ہونے والی لیکس میں جس کے نام موجود ہیں یا جو میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے سب کو نوٹس جاری کیے جائیں۔
ہر فرد جسے نوٹس جاری ہوگا اسے 15 دن کے اندر ٹیکس حکام کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 135 پاکستانیوں کے نام حالیہ لیکس میں شامل ہیں جس میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کا نام بھی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق آئی سی آئی جے کی جانب سے 5 سے 6 لوگوں کے نام منظر عام پر لائے گئے ہیں۔اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے کہا کہ معروف شخصیات کی معلومات حاصل کرنا آسان ہے تاہم عام شہری جن کے نام پیراڈائز لیکس میں آئے ہیں ان کی تفصیلات حاصل کرنے میں وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ مطلوبہ تفصیلات حاصل کرنے کا واحد طریقہ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) ہے جس کے پاس اثاثہ جات کی تفصیلات کے حوالے سے پورا میکینزم موجود ہے۔انہوں نے کہاکہ میڈیا رپورٹس اور لیکس میں صرف ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی جنہوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے سرمایہ کاری کی لیکن ٹیکس حکام کے لیے اصل چیلنج ان کے اثاثہ جات کی تفصیلات حاصل کرنا ہے جو لیکس میں نہیں بتائی گئی ہیں-ہارون اختر خان نے مزید کہاکہ ایف بی آر نے پاناما پیپرز کے حوالے سے پہلے ہی 9 ممالک میں موجود ٹیکس ہاﺅس کو الگ الگ اثاثہ جات کے حوالے سے تفصیلات دینے کا کہا تھا تاہم کسی بھی ملک کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ایک سینئر ٹیکس عہدیدار کا کہنا ہے کہ غیر رہائشی افراد کے لیے موجودہ انکم ٹیکس کا قانون بہت آسان ہے جس کے مطابق ایف بی آر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز تک کو بھی نوٹس جاری نہیں کرسکتا۔قانون کے مطابق سب سے پہلے ٹیکس حکام کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ جن پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں ہیں وہ قانونی طور پر تشکیل دی گئی ہیں یا ان کو غیر قانونی طور پر ٹیکس بچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
اگر کسی پاکستانی نے ٹیکس کی ادائیگی کے بعد رقم بیرون ملک بھیجی ہے اور اس کے بعد قانونی طور پر اپنے کاروبار کے لیے آف شور کمپنی قائم کی تو یہ عمل غیر قانونی نہیں ہوگا،تاہم اگر کسی پاکستانی نے بغیر ٹیکس کی ادائیگی کے غیر قانونی طریقے سے رقم بھیجی اور ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنی بنائی تو یہ غیر قانونی طریقہ کار ہے۔آف شور کمپنیوں میں نامزد افراد کے پہلے نوٹس کے ذریعے انفرادی معلومات حاصل ہونے سے ایف بی آر کو اگے بڑھنے میں مدد ملے گی تاہم ٹیکس حکام کا کہنا تھا کہ ایسے کیسز میں ایف بی آر کو قانونی مدت کی رکاﺅٹ کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایف بی آر اس کیس میں 6 سال سے زائد عرصے تک تفتیش نہیں کرسکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان کا ٹیکس چوری سے بچنے کے لیے 9 ممالک میں موجود ٹیکس ہاﺅسس سے کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے انفرادی طور پر لیکس میں نام آنے والوں کے حوالے سے ثبوت حاصل کرنا ناممکن ہے۔ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر محمد ارشاد نے بتایا کہ بورڈ پاناما پیپز میں نام آنے والے لوگوں کے ناموں کی تصدیق کے لیے انتظار کر رہا ہے جس کے بعد پاناما پیپرز کی طرح ہی طریقہ کار اپنا کر تفتیش کی جائے گی۔خیال رہے کہ پاناما اور پیراڈائز پیپرز شائع کرنے والے تفتیشی صحافیوں کا کہنا تھا ذرائع کی حفاظت کے لیے وہ حالیہ لیکس میں اصل دستاویز یا ڈیٹا عوام یا حکومت سے شیئر نہیں کر رہے اور نہ ہی انہوں نے لیکس میں موجود تمام ناموں کی فہرست شائع کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں