اسلام آباد : سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قانونی ٹیم سے مسلسل رابطے جاری ہیں اور نوازشریف کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتساب عدالت مین مقدمات کا سامنا کریں ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوگا کیونکہ وہ اپنے بیٹوں کے کاروبار مین براہ راست ملوث نہیں ہیں۔نوازشریف کے رابطوں اور ملاقاتوں کی تفصیل آ ن لائن نے حاصل کی ہیں اور گزشتہ دنوں ان کے وکیل خواجہ حارت بھی اسی سلسلے میں ان سے ملے تھیاور ان سے کہا تھا کہ میاں صاحب جب آپ کے خلاف کچھ نہیں تون عدالتوں میں پیش ہوتے رہیں ،۔
جو بھی الزامات ہیں ان میں کہیں بھی آپ کا براہ راست نام نہیں انصاف ہوان تو کیس احتساب عدالت میں ہی مسترد ہو جائے گا تمام دستاویزات کا جائزہ لیا ہے کسی جگہ آپ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا ،اس موقع پر نوازشریف کا کہنا تھا کہ مجھے سسٹم کو بہتر کرنے کی کوششوں کی سزا دی گئی ،یہ مجھے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں تو ڈال دیں ایک بار اس ملک کو نظام درست کر کے دوں گا،صرف میرے خاندان کا ہی احتساب کے لئے انتخاب کیوں کیا گیا ہے اداروں کے خلاف نہیں انکی مضبوطی چاہتا ہوں احتساب کریں لیکن انصاف تو ملنا چاہئیے ،ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا سامنا کرنے پاکستان آؤں گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں