دبئی: متحدہ عرب امارات کے حکمران 15 کروڑ ڈالر خرچ کرکے صحرا میں نیا شہر تعمیر کریں گے جو ہوبہو مریخ جیسا ہوگا۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے نئے منصوبہ کا افتتاح کیا ہے جسے مارس سائنس سٹی کا نام دیا گیا ہے۔ اس شہر کا رقبہ 19 لاکھ مربع فٹ ہوگا جس کا ماحول مریخ جیسا ہوگا اور وہاں دیوقامت گنبد بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ اس شہر میں عام لوگ نہیں بلکہ صرف سائنس دان قیام کریں گے جو ایک سال تک تجربات کرکے یہ معلوم کریں گے کہ مریخ پر انسان کو رہنے کے لیے کس طرح کی خوراک، پانی اور توانائی درکار ہوگی۔
امارات کی حکومت کا منصوبہ ہے کہ اگلے 100 سال میں وہ مریخ پر جگہ حاصل کرکے وہاں آبادی بسائے گی جس کے لیے اس نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے۔ دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد نے ابوظہبی میں منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہم خلا میں نت نئی دریافت کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور زمین پر انسانی زندگی کی ضروریات کو پورا اور معیار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے مریخ 2117ء حکمت عملی منصوبہ تشکیل دیا ہے جس کے تحت مریخ پر انسانی آبادی بسائی جائے گی جہاں 6 لاکھ افراد کے رہنے کی گنجائش ہوگی اور آکسیجن اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ امارات نے 2020ء تک خلا میں اپنا تحقیقاتی مشن بھی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ادارے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے مینیجر سعید الغرغاوی نے کہا کہ لوگوں کو مریخ جانے پر راغب کرنے کے لیے وہاں مراعات دی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں