ایک بہت بڑے جہاز کا انجن فیل ہوگیا۔ جہاز کے مالک نے ایک کے بعد ایک ماہر کو آزمایا مگر ان میں سے کوئی بھی طے نہ کر پایا کہ اس جہاز کو کیسے ٹھیک کیا جائے۔ پھر اسے ایک آدمی ملا جو اپنی جوانی سے جہاز ٹھیک کرتا چلا آیا تھا۔ جب وہ آیا تو اس کے پاس اوزاروں کا بہت بڑا بیگ اٹھایا ہوا تھا اور وہ جیسے ہی آیا اپنے کام میں لگ گیا۔اس نے اوپر سے لے کر نیچے تک انجن کا معائنہ کیا۔ جہاز کے دو مالک وہیں موجود تھے جو اس آدمی کو دیکھتے ہوئے کچھ پرامید نظر آرہے تھے۔ جی بھر کے معائنہ کرنے کے بعد بوڑھے آدمی نے اپنے بیگ سے ایک ہتھوڑا نکال لیا اور آہستگی سے کسی چیز پر مارنی شروع کردی۔جلد ہی انجن کو زندگی آن ملی۔ہتھوڑی کو پھر اس نے واپس رکھ دیا۔ جہاز کا انجن اب ٹھیک ہو چکا تھا۔ ایک ہفتے بعد جہاز کے مالکوں کو بوڑھے آدمی کی طرف سے دس ہزار کا بل موصول ہوا۔حیران زدہ مالکوں نے کہا: اس نے تو اتنا بڑا کوئی کام کیا ہی نہیں پھر اتنا بل کیوں؟ لہذا انہوں نے بوڑھے آدمی کو ایک نوٹ لکھ کر بھیجا: برائے مہربانی! ہمیں اشیاء کے حساب سے بل بنا کر بھیجیں۔ بوڑھے آدمی نے جواباً عرض بھیجی: ہتھوڑی سے ٹھوکنے کی فیس: 2 ڈالر، صیح جگہ پر ٹھوکنے کی فیس: 9 ہزار 9 سو اٹھانوے ڈالر۔ محنت کرنا ایک اہم چیز ہے۔ لیکن کس جگہ محنت کرنی ہے، فرق اسی سے بنتا ہے۔لہذا محنت کرتے رہو، صحیح سمت کا تعین کرکے۔ مشکلیں آئیں گی لیکن بالاخرتم ایک مکمل تجربہ کار انسان بن جاؤگے۔ لوہا گرم بھٹی سے ہو کر ہی مظبوط بنتا ہے۔ تجربہ ہی ایک انسان کو ایک اناڑی سے مختلف بناتا ہے۔ پختگی وقت سے آتی ہے اور وقت صرف اس کا ساتھ دیتا ہے جو مستقل مزاج ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں