شمشال پاکستان کے سب سے دور شمال میں ایک گاؤں ہے جو سمندری سطح سے 3800 میٹر کی انچائی پر واقع وادی ہنزہ سے جڑا ہے۔ اس کا فاصلہ چین کی مغربی سرحد سے قدرے قریب ہے اور اس کی آبادی تقریبا 2000 کے لگ بھگ ہے۔شہری ذندگی تو دور کی بات ،یہ گرد آلود شمشال اسلام آباد سے 16 اور لاہور سے 20 گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہاں عورت کے لیے فٹ بال کی خواہش کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پھر بھی لڑکیاں حصہلینے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔ کرشمہ عنایت اور اس کی فیملی شمشال سے ہیں، انہوں نے لاہور کے لیے اپنا گاؤں چھوڑا تو ہے لیکن ان کا اپنے گاؤں اور اس کے لوگوں سے بڑا گہرا تعلق ہے ۔اس نے بتایا کہ:”میرے ابو لاہور میں کام کرتے تھے۔وہ مجھے اور میری فیملی کو یہاں لائے تاکہ ہم اپنی تعلیم جاری رکھیں اور پڑھ لکھ جائیں۔میری والدہ نرس تھیں اور انہوں نے اس لیے کام چھوڑا تاکہ ہم یہاں آ سکیں۔ میرے والد بچوں کو شمشال سے ادھر لانے لگے تاکہ وہ تعلیم حاصل کر سکیں۔ وہ مانچ چھ بچوں کو لائے اور آہستہ آہستہ بچوں کی تعداد بڑھتی گئی کیوں کے لوگ اپنے بچوں کو لاہور میں تعلیم دلانا چاہتے تھے۔ میرے ابو اپنی فیملی کو لائے جو فیس نہیں دے سکتے تھے۔ “یہ اس کی پہلی ترجیح نہیں تھی لیکن 2012 میں کرشمہ نے فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔ “مجھے فٹ بال میں اتنی دلچسپی نہیں تھی ۔مجھے کرکٹ میں دلچسپی تھی لیکن پاکستان میں لڑکیوں کو اتنے مواقع نہیں ملتے تو ہمارے ابو مجھے اور میری بہن کو فٹ بال گراؤنڈ میں لے گئے۔”ان کے والد نے انہیں بتایا کے اگر وہ محنت کریں گیتو ایک دن اپنے ملک کا نام روشن کریں گی۔ تو انہوں نے محنت کی۔ کرشما بتاتی ہیں: ” ہم نے نیشنل لیول کے کلب میں کھیلنے سے پہلے دو یاں تین کلبوں کے لیے کھیلا، اس کلب کے لیے ہم نے بہت ساری نیشنل گیمز کھیلیں اور پھر2016 میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے جوبلی گیم کھیلنے میں اور میری بہن دبئی گئے۔”جب وہ اور اس کی بہن دبئی میں کھیل رہے تھے تو ان کا بھائی شمشال واپس گیا، بلکل اپنے باپ کی طرح اسکے ذہن میں لڑکیوں کو فٹ بال کے لیے میدان میں لانے کا خیال تھا۔2016 میں اپنے کزن کے ساتھ مل کر کچھ رقم جمع کی اور ایک ٹورنمنٹ منعقد کروایا۔”یہ ایک بہت بڑی تقریب تھی،اور تقریبا 70 لڑکیوں نے حصہ لیا تھا۔ “تو ہم نے سوچا کیوں نہ ہم ایک ایسا پلیٹ فارم بنائیں جہاں لڑکیاں آئیں، شامل ہوں اور کھیلنا سیکھیں۔”علاقے میں لڑکیاں جس معاشرتی دباؤ کا سامنا کر رہی تھیں وہ ہی ان کی موٹیویشن بنا۔ “اصل میں جبہمارے علاقے کی لڑکیاں 18، 20 سال کی ہو جائیں اور ان کا پڑھائی کا خرچ نہ کر پائیں تو ماں باپ سوچنے لگتے ہیں کے یہ ہی ٹھیک ہے کہ ان کی شادی کرا دی جائے تاکہ ان کے شوہر ان کو باقی کی ساری عمر سنبھالیں۔ ہم یہ سوچ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم عورتوں کو زندگی گزارنے کا مقصد دینا چاہتے ہیں۔ کچھ لڑکیاں سپورٹس سکالر شپ پہ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتی ہیں۔ ہمارا یہی مقصد ہے کے کم سنی میں لڑکیوں کی شادی کےبجائے وہ کچھ کریں، کوئی جگہ ہو جہاں وہ اپنا چھپا ہوا ٹیلیٹ دکھائیں۔”اس علاقہ غیر میں فٹ بال وہ راستہ ہے جسے اختیار کر کے لڑکیاں اس وادی سے باہر سانس لے سکتی ہیں۔ایک 20-15 سال کے بچوں کا گروپ الشمس وومن FC قائم کرنے نکلا،19 سال کی کرشما اور اس کی کزن نےاسلام آباد میں ایک سیشن میں شمولیت کی جس کے میزبان وومن 1 اور US امبیسی تھے۔ “ہم نے اپنا آئیڈیا ان کے سامنے پیش اور انہوں نےبہت ہمت بڑھائی۔ پھر ہم نے سپانسر شپ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے دلچسپی نہیں دکھائی ۔ ہم نے کاروباری لوگوں سے پوچھا لیکن ان کے خیال میں یہ ایک فضول آئیڈیا تھا کیوں کے کیسے ایک شمالی علاقے کی خواتین فٹ بال کھیل سکتی ہیں۔” خوش اصلوبی سے فنڈز کی کمی کا سامنہ کرتے ہوئے انہوں نے یہاں وہاں سے کچھ چندہ جمع کیا اور اپنی جیب سے بھی پیسے لگائے تاکے شروع کرنے کے لیے کھیل کا کچھ سامان تو آجائے۔”ہم جون میں گئے اور لڑکیوں کو ٹرین کرنا شروع کیا۔جب ہم گراؤنڈ پہنچے تو لڑکیاں وہاں پہلے سے کھڑی ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے سنا تھا کے ہم فٹ بال سکھایئں گے۔ پہلے دن 90 لڑکیاں تھیں اور پھر تعداد بڑھتی گئی۔”کرشمہ نے کہا:”بوجود اس کے کہ لوگ پاکستان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہاں کے لوگ بہت ہمت دلانے والے ہیں۔شمشال کے لوگوں کی بہتریں بات یہ ہے کہ وہ کھلی ذہنیت کے لوگ ہیں اور وہ لوگوں کی باتوں پہ کان نہیں دھرتے۔”انہوں نے دیکھا کہ والدین اپنی بچیوں کو پہلے کی طرح شادیوں کے بجائے پڑھانا لکھانا چاہتے ہیں۔ “پچھلے ماہ شمشال کے ٹورنا منٹ میں والدین خود اپنی بیٹیوں کو کھیلنے کے لیے لائے۔ “یہ جوان ٹیم امید پر پورا نہیں اتری ۔”ہم سے سنبھالا نہیں گیا کیوں کہ 100 لڑکیاں تھیں ۔ کچھ والدین گھر پر اپنی بچیوں کو لائے تاکہ ہم انہیں ٹورنمنٹ کے لیے رجسٹر کر لیں۔ بہت سے رہ گئے کیوں کہ 100 سے ذائد رجسٹر نہیں ہو سکتے تھے۔حدیں بسات اور آمدن کے حساب سے معقول تھیں۔نیشنل اور علاقائی طور پر لڑکیوں کا اس مقدار میں کھیلنا ممکن نہیں۔”والدین بہت سپورٹ کرتے ہیں لیکن اصل مسئلہ مواقع کی عدم دستیابی ہے۔ “ہمارے سامنے ایسا کوئی موقع وجود ہی نہیں رکھتا کہ ہم نیشنل یا علاقائی سطح پر کھیل سکیںاگلا قدم سپانسر شپ ہے۔ لڑکیوں کو یقین ہے کہ اس اقدام کے بعد عوام اور سپانسر کرنے والوں کی توجہ بڑھے گی۔ سپانسرشپ نہ ملنے کی بنیادی وجہ یہہے کہ انہیں لگتا ہے کہ ایک یا دو سے زیادہ ٹورنامنٹ ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن 100 میں سے ہم نے 18 سے 20 لڑکیوں کو منتخب کر لیا ہے۔ ہم انہیں تربیت دے رہے ہیں۔ ہم نے ایک ٹیم سلیکٹ کر لی ہے اور اب ہم اس ٹیم کو لاہور، اسلام آباد یا کسی اور شہر میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں وہ گراونڈ میں فٹ بال کھیل سکیں۔یہ ایک ابتدائی نوعیت کی چیز ہے لیکن شمشال میں برف میں ڈھکے پہاڑوں میں فٹ بال کھیلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔کرشما کہتی ہیں۔ “لڑکیوں کو مٹی میں فٹ بال کھیلنا پڑتا ہے اور یہاں بہت سی چٹانیں بھی موجود ہیں۔ ہر کِک کے ساتھ گراونڈ سے غبار اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ خواتین اصل فٹ بال گراونڈ میں کھیلنے کا لطف محسوس کر سکیں اور اگر یہ اچھی پرفارمنس دیں تو انہیں مختلف شہروں کے کلبوں میں کیھلنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ “کرشمہ اور اس کے رشتہ دار جو کر رہے ہیں وہ بہت قابل تعریف ہے۔ ہم اکثر اس بارے میں گفتگو کرتے ہیں کہ یونیورسل فٹ بال کیا چیز ہے اور ان خواتین کے پراجیکٹ نے ہمیں اس کی ایک حد دکھائی ہے۔ فٹ بال محض ایک گیم نہیں بلکہ اس کے ذریعے معاشرے میں مثبت سوچ کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے اور نوجوانوں کی زندگیوں اور رویوں میں اہم تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں