دو سو سال پہلے مسلمانوں کا ایک گروہ پڑھنے کے لیے لندن آیا۔ایران کے ولی عہد نے انہیں روانہ کیا۔ ان کا مشن صنعتی انقلاب سے ابھرتی ہوئی سائنس پر تحقیق کرنا تھا۔ 1815 کے آخری ماہ میں چھ نوجوان مسلمان لندن کے سرائے میں براجمان تھے، ان کے دل نئے ماحول کو دیکھ کر جوش و خروش سے بھرے ہوئے تھے۔عورتیں اور مرد شہر کے تھیٹر میں میں رات کے وقت جمع ہوتے تھے۔کچھ عرصہ قبل ہی لندن نے واٹرلو کے مقام پرنیپولین کو شکست دی تھی اور نئی سائنسز یا علوم جدید جس کی خاطر یہ طلبا آئے تھے ہر جگہ پرعملی طور پر استعمال ہونے کی وجہ سے شہرت کا مرکز بن چکی تھیں۔جیسے جیسے ہفتے مہینوں میں بدل رہے تھے، ان چھ اجنبیوں کواپنے مشن کی اہمیت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ ان کی کوئی خاص اہلیت نہیں تھی، اور کوئی اس وقت کی چھوٹی اکیڈمی کا رابطہ بھی نہیں تھا۔:ان کو انگریزی بھی نہیں آتی تھی۔ اس وقت ان کی مدد کے لیے کوئی فارسی سے انگریزی ترجمے کی لغت بھی نہیں تھی ۔انگریزی اور لاطینی زبان سیکھنے کی امید سے جو انہیں غلطی سے ہورپ کی مین سائنسی زبانیں لگتی تھیں ،ان کو ایک ریورنڈ بیسیٹ نامی پادری سے رابطہ کرنا پڑھا۔ آکسفورڈ سے گریجویٹ بیسیٹ نے انہیں برطانیہ کی دو قدیم ترین نشتوں کے بارے میں بتایا۔ جب دو نے ریاضی اور پولی میتھ آولینتھس گریگوری کی شاگردی اختیار کی تو ان کے یونیورسٹیوں سے روابط بڑھنا شروع ہوئے کیونکہ گریگوری کافی عرصہ کیمبرج میں کتب فروش کی خدمات سر انجام دے چکا تھا۔ ایک پلان بیایا گیا جس میں ایک طالب علم مرزا صالح کو یونیورسٹی پروفیسرسے ملوایا جانا تھا جس کے بارے میں امید کی جا سکتی تھی کہ وہ ان غیر ملکی طلبا کی مدد کر سکتے ہیں۔یہ اس سےبھی بہت پہلے کی بات ہے جب کیتھولکس کوبرطانوی یونیورسٹی میں پڑھنے کی اجازت ملی، اس لیے کسی ایرانی مسلمان کا کیمبریج میں آنا (جو ایران میں پہلے اخبار کی بنیاد رکھے گا) احساس اور اضطراب کی وجہ بنا۔جس معزز سکالر کو صالح کی میزبانی کا شرف ملا وہ کوئین کالج کے سیمیول لی تھے۔ لی جوان طالبان کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک عجیب امیدوار ثابت ہوئے۔ لی، جی جان سے دنیا کے ہر مسلمان کو عیسائی بنانے پر لگا تھا۔کوئین کالج کے ساتھیوں اوروین فیملی کی وجہ سے اس کا بھی چرچ مشنری معاشرے سے تعلق تھا۔ 1799 میں قائم ہونے والی یہ سوسائٹی تیزی سے کیمبریج مشنری مہم بنتی گئ۔یہ ہی وہ ایجنڈا تھا جس سے جوان مسلمان لی کو دلچسپی ہونے لگی۔ بات اتنی نہیں تھی کے لی ایک اور روح کو مسلمان کر دیتا ،اصل میں صالح پروفیسر کی بایبل کا فارسی میں ترجمہ کرنے کے مقصدکو پورا کرنے میں مدد کر سکتا تھا، فارسی ہندوستان اور آج کل کے ایران میں ہر جگہ بولی جاتی تھی ۔لی اس موقع سے فائدہ اٹھانےلے لیے آگے بڑھا۔اور اسی لیے صالح کو کیمبریج میں مدعو کیا گیا۔اس کی فارسی کی ڈائری سے پتہ چلتا ہے کہ صالح لی کو بہت پسند کرنے لگے۔ اگرچہ لی نے بہت بڑے بڑے عہدوں تک رسائی حاصل کی لیکن ان کی ابتدائی زندگی اتنی تابناک نہیں تھی۔ لی ایک بڑھئی کے گھر شروپشائر کے ایک گاؤں میں پلے بڑھے۔ کم سنی میں انہوں نے لکڑیاں کاٹنے کا فن سیکھا۔ کیلیفورنیا سے ایک گروہ ریسرچ کے کئے آیا،تب میں نے لونگنر کے گاؤں میں لی کا گھر دیکھا۔ وہ آج بھی دور دراز کی جگہ ہے؛ جھاڑیوں کی باڑ میں ڈوبی پگڈنڈیوں سے گزر کر آتی ہے۔دو سو سال پہلےسیم لی جیسے گاؤں کے باسی کو یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ کیمبریج کا پروفیسر بن جائے گا، لیکن وہ زبان دانی میں بہترین تھا جس کی وجہ سے اسے مقامی حمایت ملی۔ اسی طرح پر عزم نوجوان صالح بھی اپنے آپ کو لی جیسا قابل عزت شخص بنانے کا ارادہ کر چکے تھے۔اپنی فارسی کی ڈائیری میں اس نے لی کے بارے میں بہت حوصلہ افزا الفاظ میں ان کی زنددگی کی کہانی بیان کی ہے۔لی کی مدد سے صالح کوئین کالج میں ٹھہرنے اور ویلیم مینڈل اور جوزف جی جیسے بڑے سکالرز کے ساتھ ایک ہی حال میں بیٹھ کر کھانا کھانے کے شرف سے مستفید ہو سکا۔ اس وقت کوئین کالج کے صدر نیچرل فلاسفر اسحاق ملنر تھے جو مکالمہ باز کے طور پر بھی اتنے ہی مشہور تھے جتنا ایک کیمسٹ کی حیثیت سے ۔صالح ان ڈنرز سے لطف اندوز ہوتا لیکن اس کا کیمبریج میں ہونے کا مقصد ان دعوتوں میں ہونا نہیں تھا۔اس نے پڑھائی کے لیے کئی دلچسپ لایبریریاں چھانیں۔، خاص طور پررن لائبریری جو ٹرینیٹی کالج کی تھی، جو اسحاق نیوٹن کی ملاقات گاہ بھی تھی۔ صالح نے اسے اپنی ڈائیری میں ایسا فلاسفر کہا جس کے پاس دانائی، آنکھیں اوربرطانیہ کی مشعل اٹھانے کی صلاحیت موجود تھی۔یونیورسٹی کے دروازے کھولنے کے عوضصالح نے لی کی فارسی میں بائیبل لکھنے میں مدد کی۔جب لی ریجس پروفیسر کے لیے نامزد ہوئے توصالح نے ان کے لیے تعریف خط بھی لکھا۔ وہ خط ابھی بھی ہونیورسٹی کےمحفوظ شدہ دستاویزات میں موجود ہے۔صالح کی ڈائیری، لی کے خطوط اور یونیورسٹی کے دستاویزوں سے ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو کیمبرج کالج میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے بیچ غیر متوقع طور پر قائم ہونے والے تعلقات کا احاطہ کرتی ہے۔انگلینڈ میں یونیورسٹی کئی جگہوں میں سے ایک تھی جس میں صالح اور اس کے دوست اپنے چار سال کے دوران جاتے رہے۔ اور روشن خیالی کے پھل کو حاصل کرنے کے لیے سوال کرتے رہےاور اکثر اسلام اور مغرب کے مقابلے کو دوشمنی اور تنازعات کے طور پر بتاتے رہے ،لیکن صالح کی ڈائیری بہت الگ تصور پیش کرتی ہے، یہ ہمدردی، تعاون اور انسانیت کی تصویر پیش کرتی ہے اورصالح اور ایونجلیکل لی کی ناممکن دوستی کے محفوظ ریکارڈ بھی اس ڈائری میں موجود ہیں۔ یہ اس وقت لکھا گیا جب انگلینڈ میں جین اوسٹن کا ناول لکھا گیا،صالح کی ڈائیری ایک بھولا ہواعہد نامہ ہے، ایسی قابل تعریف چیز ہے جس نے ماڈرن دور کے آغاز میں مسلمانوں اور یورپی عوام کے بیچ کے تقابل کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں